صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1842. (101) باب ذكر البيان أن رفع الصوت بالإهلال من أفضل الأعمال
اس بات کی بیان کہ بلند آواز سے تلبیہ پکارنا افضل اعمال میں سے ایک افضل عمل ہے
حدیث نمبر: 2631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الْعَجُّ وَالثَّجُّ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْعَجُّ: رَفْعُ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ، وَالثَّجُّ: نَحْرُ الْبُدْنِ، وَالدَّمُ مِنَ الْمَنْحَرِ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون ساعمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلند آواز سے تلبیہ پکارنا اور قربانی کرنا“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ”العج“ سے مراد بلند آواز سے تلبیہ پکارنا ہے اور ”الثج“ سے مراد اونٹ ذبح کرنا ہے، اور اس کا خون بہانا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: المناسك/حدیث: 2631]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2631، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1661، والترمذي فى (جامعه) برقم: 827، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1838، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2924، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9108، 9109»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2631 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2631
فوائد:
➊ یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ تلبیہ کے کلمات اونچی آواز سے کہنا مستحب فعل ہے اور حج کے افضل اعمال میں سے ہے۔
➋ لہٰذا مردوں کے لیے بہتر امر ہے کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ ادا کریں۔
➊ یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ تلبیہ کے کلمات اونچی آواز سے کہنا مستحب فعل ہے اور حج کے افضل اعمال میں سے ہے۔
➋ لہٰذا مردوں کے لیے بہتر امر ہے کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ ادا کریں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2631]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2631 in Urdu
عبد الرحمن بن سعيد القرشي ← أبو بكر الصديق