صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
210. (208) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ التَّيَمُّمَ ضَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ لَا ضَرْبَتَانِ، مَعَ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ مَسْحَ الذِّرَاعَيْنِ فِي التَّيَمُّمِ غَيْرُ وَاجِبٍ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ چہرے اور ہاتھوں کے لیے تیمّم میں ایک ہی ضرب (ایک دفعہ ہاتھ زمین پر مارنا) ہے۔ دوبار نہیں۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ تیمّم میں ذراعین (کہنیوں تک بازو) کا مسح کرنا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 267
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَرَزَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ:" ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ"
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیمّم کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چہرے اور ہاتھوں کے لئے ایک ہی ضرب ہے“ (ایک بار ہاتھ مٹی پر مارنا ہے۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب التيمم عند الإعواز من الماء فى السفر،/حدیث: 267]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 338، 339، 340، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 368، وابن الجارود فى "المنتقى"، 139، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 266، 267، 268، 269، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 311، وأبو داود فى (سننه) برقم: 322، والترمذي فى (جامعه) برقم: 144، والدارمي فى (مسنده) برقم: 772، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 569، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1022، والدارقطني فى (سننه) برقم: 696، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18605، والحميدي فى (مسنده) برقم: 144»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 267 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 267
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے تیمم کے لیے ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مارنا مشروع ہے۔ عطاء، مکحول، اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق، صادق اور امامیہ کا یہی مذہب ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ** [فتح الباری] ** میں بیان کرتے ہیں کہ ابن منذر رحمہ اللہ نے جمہور علماء سے یہی قول نقل کیا ہے اور اسی قول کو ترجیح دی ہے، نیز عام محدثین بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 1/ 283]
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیحین میں مذکور حدیثِ عمار سے تیمم کے لیے ایک ضرب پر اکتفا کرنا صحیح اور رائج ہے، حتیٰ کہ اس مقدار سے زیادہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہو جائے۔ [نیل الأوطار: 1/ 274]
تیمم کے لیے ایک سے زیادہ ضرب کے بارے میں جتنی روایات بھی ہیں، وہ ضعیف ہیں اور کلام سے خالی نہیں ہیں۔
➌ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تیمم کی مذکورہ صفت (چہرے اور ہاتھوں کا تیمم) واجب ہے اور اس پر اضافہ اگر حکماً ثابت ہو جائے تو مذکورہ طریقہ منسوخ متصور ہو گا اور حکماً اضافی صورت قابل عمل ہو گی۔ لیکن آپ کا فعل حدیث میں بھی مذکورہ طریقہ کی تائید کرتا ہے، سو تیمم کا مکمل طریقہ حدیث میں مذکور طریقہ ہی ہے اور حدیث الدلیل رائج بھی یہی طریقہ ہے۔ [فتح الباري: 1/ 575]
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے تیمم کے لیے ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مارنا مشروع ہے۔ عطاء، مکحول، اوزاعی، احمد بن حنبل، اسحاق، صادق اور امامیہ کا یہی مذہب ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ** [فتح الباری] ** میں بیان کرتے ہیں کہ ابن منذر رحمہ اللہ نے جمہور علماء سے یہی قول نقل کیا ہے اور اسی قول کو ترجیح دی ہے، نیز عام محدثین بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [نیل الأوطار: 1/ 283]
➋ ◈ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیحین میں مذکور حدیثِ عمار سے تیمم کے لیے ایک ضرب پر اکتفا کرنا صحیح اور رائج ہے، حتیٰ کہ اس مقدار سے زیادہ کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہو جائے۔ [نیل الأوطار: 1/ 274]
تیمم کے لیے ایک سے زیادہ ضرب کے بارے میں جتنی روایات بھی ہیں، وہ ضعیف ہیں اور کلام سے خالی نہیں ہیں۔
➌ ◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تیمم کی مذکورہ صفت (چہرے اور ہاتھوں کا تیمم) واجب ہے اور اس پر اضافہ اگر حکماً ثابت ہو جائے تو مذکورہ طریقہ منسوخ متصور ہو گا اور حکماً اضافی صورت قابل عمل ہو گی۔ لیکن آپ کا فعل حدیث میں بھی مذکورہ طریقہ کی تائید کرتا ہے، سو تیمم کا مکمل طریقہ حدیث میں مذکور طریقہ ہی ہے اور حدیث الدلیل رائج بھی یہی طریقہ ہے۔ [فتح الباري: 1/ 575]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 267]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 267 in Urdu
عبد الرحمن بن أبزى الخزاعي ← عمار بن ياسر العنسي