صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1929. (188) باب الرخصة فى التكلم بالخير فى الطواف، والزجر عن الكلام السيئ فيه
طواف کے دوران خیر و بھلائی کی گفتگو کرنے کی رخصت اور بُری بات چیت کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 2739
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّايِبِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلاةِ، إِلا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ، فَمَنْ تَكَلَّمَ فَلا يَتَكَلَّمْ إِلا بِخَيْرٍ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِدَ الرَّجُلِ يَسِيرُ قَدْ زَنَقَهُ بِهِ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ وَهُوَ طَائِفٌ بِالْبَيْتِ مِنْ بَابِ الْكَلامِ الْحَسَنِ فِي الطَّوَافِ، قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي بَابٍ آخَرَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”بیشک بیت اللہ شریف کا طواف نماز کی مانند ہے مگر اس میں تمہیں بات چیت کی اجازت ہے۔ لہذا جو شخص بات چیت کرے تو وہ صرف خیر و بھلائی والی بات چیت کرے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طواف کرنے کے دوران اس شخص کو حُکم دینا جو ایک آدی کی ناک میں چمڑے کی رسی ڈالے اُسے طواف کرا رہا تھا، کہ وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر طواف کرائے، یہ حدیث بھی اچھی اور عمده كلام کرنے کے باب کے متعلق ہے۔ میں نے اس حدیث کو ایک اور باب میں بیان کیا ہے۔ (دیکھیے حدیث نمبر 2751) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2739]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 507، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2739، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3836، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1692، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2922، والترمذي فى (جامعه) برقم: 960، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9384، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15662»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2739 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2739
فوائد:
➊ طواف کا حکم نماز کی مثل ہے، یعنی جیسے نماز کے لیے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے، اسی طرح طواف کے لیے طہارت لازم ہے۔ جنبی، حیض و نفاس میں مبتلا عورت اور بے وضو کا طواف کرنا درست نہیں۔
➋ نماز میں گفتگو کرنا حرام ہے اور دورانِ نماز گفتگو سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ لیکن دورانِ طواف اچھی گفتگو کرنا جائز ہے۔
➊ طواف کا حکم نماز کی مثل ہے، یعنی جیسے نماز کے لیے طاہر اور باوضو ہونا شرط ہے، اسی طرح طواف کے لیے طہارت لازم ہے۔ جنبی، حیض و نفاس میں مبتلا عورت اور بے وضو کا طواف کرنا درست نہیں۔
➋ نماز میں گفتگو کرنا حرام ہے اور دورانِ نماز گفتگو سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ لیکن دورانِ طواف اچھی گفتگو کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2739]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2739 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي