صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1934. (193) باب إباحة الطواف والصلاة بمكة بعد الفجر وبعد العصر،
مکّہ مکرّمہ میں نماز فجر اور نماز عصر کے بعد طواف کرنا اور نماز جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2749
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: طَافَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سُبُوعًا، ثُمَّ صَلَّى لِكُلِّ سَبْعٍ رَكْعَتَيْنِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، إِنْ وُلِّيتُمْ هَذَا الْبَيْتَ مِنْ بَعْدِي، فَلا تَمْنَعُوا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَنْ يَطُوفَ بِهِ أَيَّ سَاعَةٍ مَا كَانَ مِنَ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ"
جناب ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مسور بن مخزمہ رضی اللہ عنہ نے اٹھارہ طواف کیے پر ہر طواف کے لئے دو رکعات ادا کیں اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے بنی عبد مناف، اگر تم میرے بعد بھی اس گھر (بیت اللہ شریف) کے متولی رہے تو تم کسی شخص کو اس گھر کا طواف کرنے سے نہ روکنا وہ دن رات کی جس گھڑی میں چاہے طواف کرلے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2749]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2749، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13422»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2749 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2749
فوائد:
ان احادیث کی وضاحت حدیث (1480) کے تحت بیان ہوگی۔ ملاحظہ کریں۔
ان احادیث کی وضاحت حدیث (1480) کے تحت بیان ہوگی۔ ملاحظہ کریں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2749]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2749 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← المسور بن مخرمة القرشي