صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1937. (196) باب فضل الطواف بالبيت
بیت اللہ شریف کا طواف کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: Q2753
وَذِكْرِ كَتْبِهِ حَسَنَةٍ، وَرَفْعِ دَرَجَةٍ، وَحَطِّ خَطِيئَةٍ عَنِ الطَّائِفِ بِكُلِّ قَدَمٍ يَرْفَعُهَا، أَوْ يَضَعُهَا فِي طَوَافِهِ، وَإِعْطَاءِ الطَّائِفِ بِإِحْصَاءِ أُسْبُوعٍ مِنَ الطَّوَافِ أَجْرَ مُعْتِقٍ رَقَبَةً إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ مُحْصِيَ الْأُسْبُوعِ الْوَاحِدِ مِنَ الطَّوَافِ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ
حدیث نمبر: 2753
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، نا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : إِنَّكَ لَتُزَاحِمُ عَلَى هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ، قَالَ: إِنْ أَفْعَلْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَسْحُهُمَا يَحُطُّ الْخَطَايَا" . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمًا وَلَمْ يَضَعْ، إِلا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَةً، وَيَحُطُّ عَنْهُ خَطِيئَةً، وَكَتَبَ لَهُ دَرَجَةً" . وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " مَنْ أَحْصَى أُسْبُوعًا كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ" ، قَالَ يُوسُفُ فِي حَدِيثهِ: وَرُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ.
جناب عبيد بن عمیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ آپ حجر اسود اور رکن یمانی کو چھونے کے لئے لوگوں سے ٹکراتے اور ان کے ہجوم میں گھس جاتے ہیں۔ (اتنی شدید کوشش کرنے کی وجہ کیا ہے؟) انہوں نے جواب دیا، اگر میں یہ کام کرتا ہوں تو (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”ان دونوں کو چھونے سے گناہ معاف ہوتے ہیں“ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جو شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے، اُس کے ہر قدم اُٹھانے اور رکھنے پر اللہ تعالیٰ اُس کے لئے ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتا ہے، اور اس کا ایک درجہ بلند لکھ دیا جاتا ہے۔“ اور میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ”جس شخص نے پورے سات چکّر لگائے تو گویا یہ ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کی طرح ہے۔ جناب یوسف کی روایت میں ہے کہ ”اور اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2753]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 166، 1606، 1609، 5851، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1187، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 199، 2696، 2725، 2729، 2730، 2753، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3697، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1805، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 117، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1772، 1874، 1876، والترمذي فى (جامعه) برقم: 959، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1880، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2946، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1383، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2581، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4548»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2753 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2753
فوائد:
➊ اس حدیث میں طواف کی فضیلت کا بیان ہے کہ دورانِ طواف ہر قدم اٹھانے اور رکھنے پر نیکی ملتی ہے اور گناہ محو ہوتے ہیں، نیز سات چکر مکمل کرنے پر گردن چھڑانے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
➊ اس حدیث میں طواف کی فضیلت کا بیان ہے کہ دورانِ طواف ہر قدم اٹھانے اور رکھنے پر نیکی ملتی ہے اور گناہ محو ہوتے ہیں، نیز سات چکر مکمل کرنے پر گردن چھڑانے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2753]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2753 in Urdu
عبيد بن عمير الجندعي ← عبد الله بن عمر العدوي