صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1945. (204) باب ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التى ذكرت أن لفظها عام مرادها خاص،
گزشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان جس کے بارے میں میں نے کہا تھا کہ اس کے الفاظ عام اور مراد خاص ہے۔
حدیث نمبر: 2763
قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ:" ثُمَّ أَتَى الصَّفَا، فَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، فَإِذَا مَرَّ بِالْمَسْعَى سَعَى"
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج یا عمرے کے سفر میں جب آپ کی سواری آپ کو لیکر ذوالحلیفہ کی مسجد کے پاس سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ پکارتے پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا پھر آپ صفا پہاڑی کی طرف آئے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی جب آپ دوڑنے کی جگہ سے گزرے تو آپ نے دوڑ لگائی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2763]
تخریج الحدیث: «ضعيف بهذا الاسناد، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1514، 1541، 1552، 2865، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1184، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1194، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2611، 2613، 2763، 2846، 2856، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3762، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2756، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1771، والترمذي فى (جامعه) برقم: 818، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1970، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2916، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9073، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4659، والحميدي فى (مسنده) برقم: 674»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة ثبت مشهور | |
👤←👥موسى بن عقبة القرشي، أبو محمد موسى بن عقبة القرشي ← نافع مولى ابن عمر | ثقة فقيه إمام في المغازي | |
👤←👥عمرو بن مجمع السكوني، أبو المنذر عمرو بن مجمع السكوني ← موسى بن عقبة القرشي | ضعيف الحديث | |
👤←👥أحمد بن أبي سريج النهشلي، أبو جعفر أحمد بن أبي سريج النهشلي ← عمرو بن مجمع السكوني | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2763 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2763
فوائد:
➊ صفا مروہ کی سعی کے لیے صفا سے آغاز کرنا شرط ہے، شافعی، مالک اور جمہور علماء اسی موقف کے قائل ہیں۔
➋ دورانِ سعی صفا مروہ پر چڑھنا افضل ہے، جمہور علماء کہتے ہیں کہ یہ عمل مسنون ہے، صحتِ سعی کی شرط اور واجب نہیں، بالفرض اگر کوئی شخص یہ عمل ترک کر دے تو اس کی سعی درست ہے لیکن وہ فضیلت سے محروم رہے گا۔
➌ صفا مروہ پر چڑھ کر بیت اللہ کو دیکھنا مستحب ہے، بشرطیکہ یہ عمل ممکن ہو۔
➍ صفا پر قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہونا اور مذکورہ دعا کا اہتمام کرنا افضل ہے۔
➎ بطنِ وادی میں انتہائی تیز چلنا، پھر مروہ تک باقی مسافت عام چال چلنا مستحب فعل ہے اور سعی کا یہ طریقہ سات مرتبہ ہی مستحب ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو ایسا شخص اس فضیلت سے محروم رہے گا۔ [شرح النووي: 8/178]
➊ صفا مروہ کی سعی کے لیے صفا سے آغاز کرنا شرط ہے، شافعی، مالک اور جمہور علماء اسی موقف کے قائل ہیں۔
➋ دورانِ سعی صفا مروہ پر چڑھنا افضل ہے، جمہور علماء کہتے ہیں کہ یہ عمل مسنون ہے، صحتِ سعی کی شرط اور واجب نہیں، بالفرض اگر کوئی شخص یہ عمل ترک کر دے تو اس کی سعی درست ہے لیکن وہ فضیلت سے محروم رہے گا۔
➌ صفا مروہ پر چڑھ کر بیت اللہ کو دیکھنا مستحب ہے، بشرطیکہ یہ عمل ممکن ہو۔
➍ صفا پر قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہونا اور مذکورہ دعا کا اہتمام کرنا افضل ہے۔
➎ بطنِ وادی میں انتہائی تیز چلنا، پھر مروہ تک باقی مسافت عام چال چلنا مستحب فعل ہے اور سعی کا یہ طریقہ سات مرتبہ ہی مستحب ہے، لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو ایسا شخص اس فضیلت سے محروم رہے گا۔ [شرح النووي: 8/178]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2763]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2763 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي