صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1987. (246) باب ذكر البيان أن هذه الصلوات التى قال النبى صلى الله عليه وسلم: " من صلى معنا هذه الصلاة " كانت صلاة الصبح لا غيرها.
اس بات کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: ”جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھ لی“ سے آپ کی مراد صبح کی نماز ہے، کوئی اور نماز مراد نہیں ہے
حدیث نمبر: 2821
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ مُضَرِّسٍ ، يَقُولُ: كُنْتُ أَوَّلَ الْحَاجِّ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَخَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ، وَقَدْ أَكْلَلْتُ رَاحِلَتِي وَأَنْصَبْتُ نَفْسِي، فَمَا تَرَكْتُ مِنْ حَبَلٍ إِلا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَنْ شَهِدَ الصَّلاةَ مَعَنَا، ثُمَّ وَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ، وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَاتٍ لَيْلا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ" ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ فِي عَقِبِهِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، أَنَّهُ خَرَجَ حِينَ بَرِقَ الْفَجْرُ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: دَاوُدُ هَذَا هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الأَوْدِيُّ
سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں پہلی مرتبہ حج کررہا تھا تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ منردلفہ میں تشریف فرما تھے۔ جب فجر روشن ہوئی تو آپ صبح کی نماز کے لئے نکلے۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں طی قبیلے کے پہاڑوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں نے اپنی سواری تھکا دی ہے اور خود بھی تھکاوٹ سے چور چور ہو چکا ہوں، میں نے کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا مگر اس پر ٹھہرا ہوں (کہ شاید یہی عرفات ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ہمارے ساتھ یہ نماز پڑھ لی پھر یہاں سے ہمارے روانہ ہونے تک ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفات میں دن یا رات کے وقت ٹھہر چکا ہو تو اُس نے اپنی میل کچیل دور کرلی اور اُس کا حج مکمّل ہوگیا۔ ‘ جناب داؤد کی روایت میں ہے کہ جب فجرطلوع ہوئی تو اُس وقت نماز کے لئے نکلے۔ امام ابو بکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس داؤد رادی سے مراد ابن یزید اودی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2821]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 514، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2820، 2821، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3850، 3851، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1706، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3039، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1950، والترمذي فى (جامعه) برقم: 891، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16458، والحميدي فى (مسنده) برقم: 924»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2821 in Urdu
داود بن أبي هند القشيري ← عامر الشعبي