صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1989. (248) باب الوقوف بعرفة على الرواحل.
سواریوں پر سوار ہو کر وقوف عرفہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2823
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ: كَانَتْ قُرَيْشٌ إِنَّمَا تَدْفَعُ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ، وَيَقُولُونَ: نَحْنُ الْحُمْسُ، فَلا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ، وَقَدْ تَرَكُوا الْمَوْقِفَ عَلَى عَرَفَةَ، قَالَ:" فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَقِفُ مَعَ النَّاسِ بِعَرَفَةَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، ثُمَّ يُصْبِحُ مَعَ قَوْمِهِ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَيَقِفُ مَعَهُمْ يَدْفَعُ إِذَا دَفَعُوا"
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قریش کے لوگ مزدلفہ ہی سے واپس آجاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم حمس (دین میں پختہ اور بہتر لوگ) ہیں اس لئے ہم حدود حرم سے باہر نہیں جائیںگے ان لوگوں نے وقوف عرفات ترک کیا ہوا تھا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار تھے۔ پھر آپ صبح کے وقت اپنی قوم کے ساتھ مزدلفہ میں آ ملتے، آپ ان کے ساتھ ٹھہر ے رہتے حتّیٰ کہ جب وہ منیٰ کی طرف لوٹتے تو آپ ان کے ساتھ روانہ ہوتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2823]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1664، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1220، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2823، 3057، 3059، 3060، 3061، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3849، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1710، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3013، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9547، 9548، وأحمد فى (مسنده) برقم: 17009، والحميدي فى (مسنده) برقم: 569»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2823 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2823
فوائد:
◈ سواری پر وقوف کرنا افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر وقوف کیا اور یہ عمل دعا کرنے کے لیے زیادہ مددگار و معاون ہے۔ [المغني: 3/436]
◈ سواری پر وقوف کرنا افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری پر وقوف کیا اور یہ عمل دعا کرنے کے لیے زیادہ مددگار و معاون ہے۔ [المغني: 3/436]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2823]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2823 in Urdu
نافع بن جبير النوفلي ← جبير بن مطعم القرشي