صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2028. (287) باب إباحة تقديم الثقل من جمع إلى منى بالليل
مزدلفہ سے سامان رات کے وقت منیٰ بھیجنا جائز ہے
حدیث نمبر: 2872
ثنا ثنا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثنا عِيسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ" ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ ابْنِ عَبَّاسٍ كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى بِاللَّيْلِ، دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ الْمَأْمُورَ بِالْتِقَاطِ الْحَصَى غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ هُوَ الْفَضْلُ ابْنُ عَبَّاسٍ، لا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخْبَارُ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى بِاللَّيْلِ دَالَّةٌ عَلَى أَنَّ خَبَرَ مُشَاسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْمٌ، لأَنَّ الْمُقَدَّمَ مَعَ الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، لا الْفَضْلُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں اُن افراد میں شامل تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان کے ساتھ منیٰ روانہ کردیا تھا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ احادیث کہ میں اُن افراد کے ساتھ تھا جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ کی رات ہی کو منیٰ روانہ کردیا تھا، یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ مزدلفہ کی صبح کو آپ نے کنکریاں چُننے کا حُکم سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو دیا تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہیں۔ اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کی یہ روایات کہ وہ مزدلفہ سے منیٰ جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اس بات کی دلیل ہیں کہ مشاس کی عطاء کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کہ سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اُن لوگوں کے ساتھ تھا جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے روانہ کر دیا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے یہ روایت وہم ہے کیونکہ کمزور افراد کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ جانے والے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2872]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1677، 1678، 1856، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1293، وابن الجارود فى "المنتقى"، 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2870، 2872، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3862، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3032، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1939، والترمذي فى (جامعه) برقم: 892، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3025، 3026، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9603، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2675، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1945»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2872 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2872
فوائد:
➊ جو شخص مزدلفہ میں رات گزارے اس کے لیے وہاں سے منیٰ کا رخ کرنا جائز نہیں اور نصف شب کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہونے والے پر کوئی فدیہ نہیں۔ [المغني: 3/ 451]
➋ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزور افراد کو وقت سے پہلے اس لیے بھیجا تاکہ وہ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جاتے ہوئے بھیڑ سے بچ سکیں اور ازدحام کے خوف سے بچاؤ کے لیے طلوع آفتاب سے قبل جمرات کو کنکریاں مار لیں۔ جبکہ جمرات کو کنکریاں مارنے کا مستحب وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جمرات کو کنکریاں ماری تھیں۔ [شرح ابن بطال: 7/ 415]
➌ مزدلفہ سے کمزور افراد، عورتوں اور سامان وغیرہ کو نصف شب کے بعد منیٰ روانہ کرنا جائز ہے۔
➊ جو شخص مزدلفہ میں رات گزارے اس کے لیے وہاں سے منیٰ کا رخ کرنا جائز نہیں اور نصف شب کے بعد مزدلفہ سے روانہ ہونے والے پر کوئی فدیہ نہیں۔ [المغني: 3/ 451]
➋ ◈ مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ میں سے کمزور افراد کو وقت سے پہلے اس لیے بھیجا تاکہ وہ مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جاتے ہوئے بھیڑ سے بچ سکیں اور ازدحام کے خوف سے بچاؤ کے لیے طلوع آفتاب سے قبل جمرات کو کنکریاں مار لیں۔ جبکہ جمرات کو کنکریاں مارنے کا مستحب وقت طلوع آفتاب کے بعد ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت جمرات کو کنکریاں ماری تھیں۔ [شرح ابن بطال: 7/ 415]
➌ مزدلفہ سے کمزور افراد، عورتوں اور سامان وغیرہ کو نصف شب کے بعد منیٰ روانہ کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2872]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2872 in Urdu