صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2029. (288) بَابُ قَدْرِ الْحَصَى الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجِمَارُ،
جمرات پر کتنی بڑی کنکری مارنی چاہیے
حدیث نمبر: 2875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " رَمَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ"
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرے کو چنے کے دانے کے برابر کنکریاں ماریں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2875]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1557، 1568، 1570، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1213، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1340، وابن الجارود فى "المنتقى"، 500، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 957، 2534، 2603، 2620، 2626، 2687، 2709، 2713، 2717، 2718، 2754، 2755، 2756، 2757، 2778، 2785، 2786، 2787، 2794، 2802، 2809، 2811، 2812، 2815، 2826، 2835، 2853، 2855، 2857، 2858، 2862، 2864، 2875، 2876، 2877، 2890، 2892، 2900، 2901، 2924، 2926، 2944، 2968، 2969، 3025، 3026، 3056، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1785، والترمذي فى (جامعه) برقم: 817، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1008، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 400، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2533، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11942»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2875 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2875
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رمی میں اتنی مقدار یعنی لوبیا کے دانے کے برابر کنکریاں مارنا مستحب ہے۔ لیکن اس سے چھوٹی یا بڑی کنکری مارنا مع الکراہت جائز ہے۔ [شرح النووي: 9/47]
➋ رمی میں بڑے پتھر، جوتے، لوہے کے گولے وغیرہ پھینکنا ناجائز اور خلافِ سنت ہے، اور اس میں لوگوں کو نقصان پہنچانے کا پہلو ہے، جو کسی بھی صورت جائز نہیں۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ رمی میں اتنی مقدار یعنی لوبیا کے دانے کے برابر کنکریاں مارنا مستحب ہے۔ لیکن اس سے چھوٹی یا بڑی کنکری مارنا مع الکراہت جائز ہے۔ [شرح النووي: 9/47]
➋ رمی میں بڑے پتھر، جوتے، لوہے کے گولے وغیرہ پھینکنا ناجائز اور خلافِ سنت ہے، اور اس میں لوگوں کو نقصان پہنچانے کا پہلو ہے، جو کسی بھی صورت جائز نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2875]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2875 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري