🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2084. ‏(‏343‏)‏ باب استحباب الاستقاء من ماء زمزم؛
آب زمزم کنویں سے نکال کر لوگوں کو پلانا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2946
إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْلَمَ أَنَّهُ عَمَلٌ صَالِحٌ، وَأَعْلَمَ أَنَّ لَوْلَا أَنْ يُغْلَبَ الْمُسْتَقِي مِنْهَا عَلَى الِاسْتِقَاءِ لَنَزَعَ مَعَهُمْ‏.‏
کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ یہ نیک عمل ہے۔ اور آپ نے یہ بھی بتایا ہے کہ اگر زمزم پلانے والوں کو تکلیف کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں بھی ان کے ساتھ کنویں سے ڈول کھینچتا [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2946]
 
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2946
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ، فَإِيتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ:" اسْقِنِي"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، فَقَالَ:" اسْقِنِي"، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ، وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ:" اعْمَلُوا، فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ"، ثُمَّ قَالَ:" لَوْلا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَعْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ" يَعْنِي عَاتِقَهُ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الإِشَارَةَ تَقُومُ مَقَامَ النُّطْقِ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کے حوض کے پاس آئے اور پانی طلب کیا۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا اے فضل، اپنی والدہ کے پاس جاؤ اور اُس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مشروب لے آو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہی پانی پلادو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، لوگ اپنے ہاتھ اس پانی میں ڈالتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہی پانی پلا دو۔ آپ نے اس سے پانی پیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کے کنویں پر آئے تو (بنی عبدالمطلب) کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح پانی نکال کر پلاتے رہو کیونکہ تم ایک نیک عمل کررہے ہو۔ پھر فرمایا: مجھے اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہو جاؤ گے تو میں بھی اپنے اس کندھے پر رسّی رکھ کر ڈول کھینچتا، اور آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ بات اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ اشارہ بھی کلام کے قائم مقام ہوتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2946]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1635، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2946، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5392، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1753، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9755، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3596، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 24337»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي
ثقة
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عكرمة مولى ابن عباس
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← خالد الحذاء
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن شاهين الواسطي، أبو بشر
Newإسحاق بن شاهين الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2946 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2946
فوائد:
➊ طواف اور مقام ابراہیم کے قریب دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد آب زمزم پینا مستحب ہے۔ [فقه السنة: 625/1]
➋ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کا پانی خود پلانے کا شوق رکھتے تھے، پھر اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لوگ اسے مسنون عمل سمجھ کر ہجوم کر دیں گے اسے ترک کر دیا۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2946]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2946 in Urdu