صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2114. (373) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم قد كان أعلمهم وهو بمنى أن ينزل بالأبطح.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو منیٰ ہی میں بتادیا تھا کہ آپ وادی ابطح میں ٹھہریں گے۔ اور سیدنا ابو رافع کے اس قول سے ان کی مراد
حدیث نمبر: 2986
ثنا بِخَبَرِ ابْنِ رَافِعٍ الَّذِي ذَكَرْتُ، نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ عَبْدِ الْجَبَّارِ: ثنا سُفْيَانُ، وَقَالَ نَصْرٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، وَقَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ: " ضَرَبْتُ قُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ، فَجَاءَ فَنَزَلَ" ، هَذَا حَدِيثُ نَصْرٍ، وَقَالَ عَلِيٌّ: قَالَ أَبُو رَافِعٍ: لَمْ يَأْمُرْنِي أَنْ أَنْزِلَ الأَبْطَحَ، وَإِنَّمَا جِئْتُ فَضَرَبْتُ قُبَّتَهُ، فَجَاءَ فَنَزَلَ، وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَضْرِبَ قُبَّتَهُ، إِنَّمَا ضَرَبْتُ قُبَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالأَبْطَحِ، فَنَزَلَ، وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ: وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ عَلَى ثِقَلٍ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلُهُ حِينَ جَاءَ مِنَ الْمَدِينَةِ بِأَعْلَى مَكَّةَ، قَالَ أَبُو رَافِعٍ: فَجِئْتُ فَضَرَبْتُ قُبَّتَهُ، فَجَاءَ فَنَزَلَ
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ وادی ابطح میں لگا دیا۔ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا پھر آپ تشریف لائے تو آپ اس خیمے میں فروکش ہوئے یہ روایت جناب نصر کی ہے اور جناب علی بن خشرم کی روایت میں ہے کہ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ نے مجھے وادی ابطح میں اُترنے کا حُکم نہیں دیا تھا بلکہ میں خود ہی آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی تشریف لے آئے اور خیمے میں فروکش ہوگئے۔ جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیمہ نصب کرنے کا حُکم نہیں دیا تھا۔ بلکہ میں نے خود ہی وادی ابطح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگادیا تو آپ اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ جناب عبدالجبار نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کیے ہیں اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ وہ آپ کے سامان کے نگران تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منوّرہ سے تشریف لائے تھے تو آپ نے مکّہ مکرّمہ کی بالائی جانب قیام کیا تھا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں کہ پس میں وادی ابطح میں آیا تو میں نے آپ کا خیمہ لگا دیا۔ پھر آپ بھی آ گئے اور اس میں تشریف فرما ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2986]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1313، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2986، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2009، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 9845، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24399، والحميدي فى (مسنده) برقم: 559، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 13503، والطبراني فى(الكبير) برقم: 916»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2986 in Urdu
سليمان بن يسار الهلالي ← أبو رافع القبطي