صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2120. (379) باب استحباب الإدلاج بالارتحال من الحصبة، اقتداء بفعل المصطفى- عليه السلام-.
نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہوئے اخیر رات میں محصب سے واپسی کے لئے سفر کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 2998
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِي الْخَبَرِ: " فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابِهِ يَعْنِي مِنَ الْمُحَصَّبِ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَرَكِبَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر نکلے پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اس روایت میں یہ الفاظ بیان کیے آپ نے وادی محصب میں اپنے صحابہ کو روانگی کا حُکم دیا تو لوگ چل پڑے۔ پھر آپ صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ شریف کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کا طواف کیا پھر باہر آ کر سواری پر بیٹھے پھر آپ مدینہ منوّرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2998]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2998 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2998
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ مقام ابطح سے رات کو صبح صادق سے قبل بھی روانہ ہونا مسنون ہے اور اندھیرے میں وہاں سے نکلنا افضل ہے۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ مقام ابطح سے رات کو صبح صادق سے قبل بھی روانہ ہونا مسنون ہے اور اندھیرے میں وہاں سے نکلنا افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2998]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2998 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق