صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2139. (398) باب إباحة العمرة فى ذي الحجة بعد مضي أيام التشريق.
ایامِ تشریق گزر جانے کے بعد ذوالحجہ ہی میں عمرہ کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 3024
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ:" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَقَ رَأْسَهُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" ، قَالَ: وَكَانَ النَّاسُ يَحْلِقُونَ فِي الْحَجِّ، ثُمَّ يَعْتَمِرُونَ عِنْدَ النَّفَرِ، فَيَقُولُ: مَا يَحْلِقُ هَذَا، فَنَقُولُ لأَحَدِهِمْ: أَمِرَّ الْمُوسَى عَلَى رَأْسِكَ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے سر کے بال منڈوائے تھے۔ جناب ابن جریج کہتے ہیں کہ لوگ حج کے موقع پر سر کے بال منڈواتے تھے، پھرمنیٰ سے واپس روانہ ہوتے وقت عمرہ ادا کرتے تھے تو کہتے، اب یہ کیا مونڈے گا؟ تو ہم ایک دوسرے سے کہتے کہ اپنے سر پراسترا پھیرلو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3024]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي