صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2158. (417) باب الصبي يحج قبل البلوغ ثم يبلغ
جو بچّہ بلوغت سے پہلے حج کرلے اور پھر بالغ ہوجائے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3050
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا حَجَّ الصَّبِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ حَتَّى يَعْقِلَ، فَإِذَا عَقَلَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى، وَإِذَا حَجَّ الأَعْرَابِيُّ فَهِيَ لَهُ حَجَّةٌ، فَإِذَا هَاجَرَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى" ، أَخْبَرَنِي بُنْدَارٌ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، بِمِثْلِهِ مَوْقُوفًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا عِلْمِي هُوَ الصَّحِيحُ بِلا شَكٍّ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: وَإِذَا حَجَّ الأَعْرَابِيُّ مِنَ الْجِنْسِ الَّتِي كُنْتُ أَقُولُ إِنَّهُ فِي بَعْضِ الأَوْقَاتِ دُونَ جَمِيعِ الأَوْقَاتِ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ إِنْ صَحَّتْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحُكْمُ قَبْلَ فَتْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فَتَحَهَا، وَخَبَّرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ اسْتَوَى الأَعْرَابِيُّ وَالْمُهَاجِرُ فِي الْحَجِّ، فَجَازَ عَنِ الأَعْرَابِيِّ إِذَا حَجَّ كَمَا يَجُوزُ عَنِ الْمُهَاجِرِ لِسُقُوطِ الْهِجْرَةِ، وَبُطْلانِهَا بَعْدَ فَتْحِ مَكَّةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بچّہ حج کرلے تو بالغ ہونے تک اُس کا یہ حج کافی ہے۔ پھر جب بالغ ہو جائے تو اُسے ایک اور حج کرنا پڑیگا اور جب بدوی حج کرلے تو وہ اُس کا حج ہے، پھر جب وہ ہجرت کرکے (مدینہ منوّرہ آجائے) تو اُس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہے۔ جناب ابوظبیان سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی حدیث موقوف بیان کرتے ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق یہ موقوف حدیث (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذاتی قول) ہی صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ کہ جب بدوی حج کرلے (تو اُس کا حج اُسے ہجرت کرنے تک کافی ہوگا اور ہجرت کرنے کے بعد دوبارہ حج کرنا پڑیگا) یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں، میں کہتا ہوں کہ حُکم بعض اوقات کے لئے ہے تمام اوقات کے لئے نہیں ہے۔ اگر یہ الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائیں تو پھر یہ حُکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکّہ فتح کرنے سے پہلے کے لئے ہے۔ پھر جب مکّہ مکرّمہ کو آپ نے فتح کرلیا اور آپ نے بتادیا کہ فتح مکّہ کے بعد ہجرت کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو پھر حج کے حُکم میں بدوی اور مہاجر برابر ہوگئے۔ لہٰذا بدوی جب حج کریگا تو وہ اسے کافی ہوگا جیسا کہ مہاجر کا جو اسے کافی ہوتا ہے۔ کیونکہ فتح مکّہ کے بعد ہجرت کا حُکم ختم ہوگیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 3050]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3848، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 3050، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1775، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8705، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 15105»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 3050 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 3050
فوائد:
➊ یہ احادیث شافعی، مالک، احمد اور جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر وہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے، لیکن یہ حج فریضۂ حج کی طرف سے کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ حج نفل واقع ہوگا، اور یہ احادیث اس بارے میں پیش کرنا صحیح ہیں۔ اور احناف کہتے ہیں کہ بچے کو بطور مشق حج کروایا جا سکتا ہے کہ وہ بالغ ہو کر اس فریضہ کو ادا کر سکے۔ لیکن احادیثِ الباب ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔ [شرح النووي: 9/ 100]
➋ نابالغ بچے کو حج کا ثواب ملتا ہے اور اسے حج کروانے والے کو بھی برابر اجر ملتا ہے۔
➌ بلوغت کے بعد دوبارہ حج کرنا فرض ہے کیونکہ بچے کے حج کی فرضیت حالتِ بلوغت میں حج ادا کرنے سے ہی ساقط ہوگی۔
➊ یہ احادیث شافعی، مالک، احمد اور جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہیں کہ نابالغ بچے کا حج صحیح ہے، اس پر وہ ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے، لیکن یہ حج فریضۂ حج کی طرف سے کافی نہیں ہوتا بلکہ یہ حج نفل واقع ہوگا، اور یہ احادیث اس بارے میں پیش کرنا صحیح ہیں۔ اور احناف کہتے ہیں کہ بچے کو بطور مشق حج کروایا جا سکتا ہے کہ وہ بالغ ہو کر اس فریضہ کو ادا کر سکے۔ لیکن احادیثِ الباب ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں۔ [شرح النووي: 9/ 100]
➋ نابالغ بچے کو حج کا ثواب ملتا ہے اور اسے حج کروانے والے کو بھی برابر اجر ملتا ہے۔
➌ بلوغت کے بعد دوبارہ حج کرنا فرض ہے کیونکہ بچے کے حج کی فرضیت حالتِ بلوغت میں حج ادا کرنے سے ہی ساقط ہوگی۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 3050]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 3050 in Urdu
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي