صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
237. (4) باب فرض الصلوات الخمس
پانچ نمازیں فرض ہیں
حدیث نمبر: Q306
وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنْ لَا فَرْضَ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا الْخَمْسَ، وَأَنَّ كُلَّ مَا سِوَى الْخَمْسِ مِنَ الصَّلَاةِ فَتَطَوُّعٌ لَيْسَ شَيْءٌ مِنْهَا فَرْضٌ إِلَّا الْخَمْسُ فَقَطْ
اور اس بات کی دلیل کا بیان کہ صرف پانچ نمازیں فرض ہیں۔ ان پانچ کے علاوہ جتنی نمازیں ہیں وہ سب نفلی ہیں۔ سوائے پانچ نمازوں کے کوئی نماز فرض نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: Q306]
حدیث نمبر: 306
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، نا أَبُو سُهَيْلٍ وَهُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ؟ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، إِلا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا"، قَالَ: أَخْبِرْنِي مَاذَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ؟ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الإِسْلامِ، قَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلا أُنْقِصُ شَيْئًا مِمَّا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ ، أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ"
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے، اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نمازوں میں سے کیا فرض کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازں ہیں الایہ کہ تم کوئی نفلی نماز پڑھ لو۔“ اُس نے کہا کہ مجھے بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر زکوٰۃ میں سے کیا فرض کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے (زکوٰۃ) کے متعلق اسلامی احکام بتائے۔ اُس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معزز و مکرم بنایا ہے میں نفلی کام بلکل نہیں کروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کیا ہے میں اس میں کوئی کمی نہیں کروںگا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے باپ کی قسم، اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا۔“ یا فرمایا: ”اس کے باپ کی قسم، اگر اس نے سچ کہا ہے تو جنّت میں داخل ہو جائے گا۔“ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 306]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 46، 1891، 2678، 6956، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 11، ومالك فى (الموطأ) برقم: 604، وابن الجارود فى "المنتقى"، 161، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 306، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1724، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 391، 3252، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1619، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1407»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 306 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 306
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے اور دن رات میں ہر مسلمان پر پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس کے علاوہ فرض نمازوں سے قبل اور بعد ادا کی جانے والی نماز سنت ہے۔
➋ زکوٰۃ بھی اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ اور فرض زکوٰۃ کے علاوہ مسلمانوں پر کوئی مالی فریضہ واجب نہیں۔ البتہ صدقہ و خیرات کی ترغیب موجود ہے۔
➌ اس صحابی کو دین کے تمام امور نہیں بتائے گئے بلکہ اسے روز مرہ پیش آمدہ واجبات کی تعلیم دی گئی کیونکہ ابتدائی تعلیم میں تخفیف اور اہم فرائض کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے علاوہ واجبات و فرائض جو دیگر آیات و احادیث میں وارد ہیں ان کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
➍ صحابی کا کہنا کہ میں ان فرائض میں کمی بیشی نہیں کروں گا، سے یہ مقصود ہے کہ وہ فرض نمازوں کی رکعات میں کمی بیشی نہیں کریں گے۔ یہ مقصود نہیں کہ وہ اور فرائض کو تسلیم نہیں کریں گے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز اسلام کا بنیادی رکن ہے اور دن رات میں ہر مسلمان پر پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس کے علاوہ فرض نمازوں سے قبل اور بعد ادا کی جانے والی نماز سنت ہے۔
➋ زکوٰۃ بھی اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ اور فرض زکوٰۃ کے علاوہ مسلمانوں پر کوئی مالی فریضہ واجب نہیں۔ البتہ صدقہ و خیرات کی ترغیب موجود ہے۔
➌ اس صحابی کو دین کے تمام امور نہیں بتائے گئے بلکہ اسے روز مرہ پیش آمدہ واجبات کی تعلیم دی گئی کیونکہ ابتدائی تعلیم میں تخفیف اور اہم فرائض کی تعلیم دی جاتی ہے اور ان کے علاوہ واجبات و فرائض جو دیگر آیات و احادیث میں وارد ہیں ان کا اہتمام ہر مسلمان پر لازم ہے۔
➍ صحابی کا کہنا کہ میں ان فرائض میں کمی بیشی نہیں کروں گا، سے یہ مقصود ہے کہ وہ فرض نمازوں کی رکعات میں کمی بیشی نہیں کریں گے۔ یہ مقصود نہیں کہ وہ اور فرائض کو تسلیم نہیں کریں گے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 306]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 306 in Urdu
مالك بن أبي عامر الأصبحي ← طلحة بن عبيد الله القرشي