🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2168. ‏(‏427‏)‏ باب الدليل على أن جهاد النساء الحج والعمرة،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ عورتوں کا جہاد، حج اور عمرہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3074
وَفِي الْخَبَرِ- عِلْمِي- دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْعُمْرَةَ وَاجِبَةٌ كَالْحَجِّ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَ أَنَّ عَلَيْهِنَّ الْعُمْرَةَ كَمَا أَنَّ عَلَيْهِنَّ الْحَجَّ
میرے علم کے مطابق اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حج کی طرح عمرہ بھی واجب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ عورتوں کے اوپر جس طرح حج کرنا ضروری ہے اسی طرح عمرہ کرنا بھی ضروری ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر العمرة وشرائعها وسننها وفضائلها/حدیث: Q3074]
تخریج الحدیث:

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ عَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ؟ قَالَ:" عَلَيْهِمْ جِهَادٌ، لا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ، وَالْعُمْرَةُ" ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لا قِتَالَ فِيهِ وَإِعْلامُهُ أَنَّ الْجِهَادَ الَّذِي عَلَيْهِنَّ الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ بَيَانُ أَنَّ الْعُمْرَةَ وَاجِبَةٌ كَالْحَجِّ، إِذْ ظَاهِرُ قَوْلِهِ عَلَيْهِنَّ أَنَّهُ وَاجِبٌ إِذْ غَيْرُ جَائِزٍ أَنْ يُقَالَ عَلَى الْمَرْءِ مَا هُوَ تَطَوُّعٌ غَيْرُ وَاجِبٍ
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُن پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی نہیں ہے، وہ حج اور عمرہ ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ آپ کے اس فرمان کہ ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں لڑائی بھی نہیں ہے اور آپ نے انھیں بتایا کہ ان پر واجب جہاد حج اور عمره کرنا ہے، اس میں یہ دلیل ہے کہ عمرہ حج کی طرح واجب ہے۔ کیونکہ آپ کا فرمان عَلَيْهِنَّ (ان پر ہے) کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ ان پر واجب ہے کیونکہ کسی نفلی عبادت کے لئے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ علی المرء (آدمی پر ہے)۔ (یہ اسی وقت کہا جاتا ہے جب کسی چیز کا وجوب بتانا مقصود ہو)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر العمرة وشرائعها وسننها وفضائلها/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عائشة بنت طلحة القرشية، أم عمران
Newعائشة بنت طلحة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥حبيب بن أبي عمرة الحماني، أبو عبد الله
Newحبيب بن أبي عمرة الحماني ← عائشة بنت طلحة القرشية
ثقة
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← حبيب بن أبي عمرة الحماني
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥علي بن المنذر الطريقي، أبو الحسن
Newعلي بن المنذر الطريقي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة