صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
259. (26) باب كراهية النوم قبل صلاة العشاء والحديث بعدها بذكر خبر مجمل غير مفسر.
مجمل غیر مفسر روایت کے ذکر سے نماز عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 346
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نا عَوْفٌ . ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ عَوْفٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلامَةَ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا" . هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ، فَسَأَلَهُ أَبِي: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ:" كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا" . وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، وَمَتْنُ حَدِيثِهِمَا مِثْلُ مَتْنِ حَدِيثِ يَحْيَى
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ یہ احمد بن منیع کی حدیث ہے۔ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابومنہال سیاربن سلامہ نے بیان کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو میرے والد نے اُن سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز کیسے ادا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو کو مؤخر کرنا پسند کرتے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد گُفتگو کرنا ناپسند کرتے تھے۔ محمد بن جعفر اور عبدالوھاب کی روایت میں «عَنْ اَبِی الْمِنْھَالِ» ہے جبکہ متن یحییٰ کی روایت ہی کی طرح ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 346]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 541، 547، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 461، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 346، 528، 529، 530، 1339، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1503، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 494، وأبو داود فى (سننه) برقم: 398، 4849، والترمذي فى (جامعه) برقم: 168، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 674، 701، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2085، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20078»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 346 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 346
فوائد:
➊ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ عشاء سے قبل سونے کی کراہت کا سبب یہ ہے کہ عشاء سے قبل گہری نیند سونے کا خدشہ ہے، یا نماز عشاء کے پسندیدہ اور افضل وقت کے چھوٹ جانے کا خدشہ ہے۔
➋ ◈ نیز یہ فعل اس لیے بھی مکروہ ہے کہ اس سے لوگ کاہلی کا شکار ہو کر نماز باجماعت کے وقت سوتے نہ رہ جائیں (لہذا عشاء سے قبل سونا مکروہ ہے)۔
➌ ◈ اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کی کراہت کا سبب یہ ہے کہ یہ رات کی بیداری کا سبب ہے، پھر نیند کے غلبے کی وجہ سے قیام اللیل، رات کے اذکار اور نماز فجر کے چھوٹنے کا ڈر ہے۔
➍ ◈ نیز رات کی بیداری دن کے اوقات میں حقوق الدین، نیک کاموں اور دنیاوی مصالح کو انجام دینے میں سستی کا باعث ہے (لہذا عشاء کے بعد باتیں کرنا مکروہ فعل ہے)۔
➎ ◈ علماء کہتے ہیں کہ عشاء کے بعد گپیں ہانکنا اور غیر ضروری باتیں مکروہ ہیں، البتہ مصلحت و حکمت اور خیر کی باتیں کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 146/5]
➊ ◈ علماء بیان کرتے ہیں کہ عشاء سے قبل سونے کی کراہت کا سبب یہ ہے کہ عشاء سے قبل گہری نیند سونے کا خدشہ ہے، یا نماز عشاء کے پسندیدہ اور افضل وقت کے چھوٹ جانے کا خدشہ ہے۔
➋ ◈ نیز یہ فعل اس لیے بھی مکروہ ہے کہ اس سے لوگ کاہلی کا شکار ہو کر نماز باجماعت کے وقت سوتے نہ رہ جائیں (لہذا عشاء سے قبل سونا مکروہ ہے)۔
➌ ◈ اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کی کراہت کا سبب یہ ہے کہ یہ رات کی بیداری کا سبب ہے، پھر نیند کے غلبے کی وجہ سے قیام اللیل، رات کے اذکار اور نماز فجر کے چھوٹنے کا ڈر ہے۔
➍ ◈ نیز رات کی بیداری دن کے اوقات میں حقوق الدین، نیک کاموں اور دنیاوی مصالح کو انجام دینے میں سستی کا باعث ہے (لہذا عشاء کے بعد باتیں کرنا مکروہ فعل ہے)۔
➎ ◈ علماء کہتے ہیں کہ عشاء کے بعد گپیں ہانکنا اور غیر ضروری باتیں مکروہ ہیں، البتہ مصلحت و حکمت اور خیر کی باتیں کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 146/5]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 346]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 346 in Urdu
سيار بن سلامة الرياحي ← نضلة بن عمرو الأسلمي