صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
262. (29) بَابُ اسْتِحْبَابِ التَّغْلِيسِ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ.
اندھیرے میں نماز فجر ادا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 351
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ:" فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ"
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تو ہم نے اُس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الصلاة/حدیث: 351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 371، 610، 947، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 382، وابن الجارود فى "المنتقى"، 667، 781، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 351، 400، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4091، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2210، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 69، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2054، 2634، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1115، 1550، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1957، 2272، 3196، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1933، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3741، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12138»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 351 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 351
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز فجر جلدی (اندھیرے میں) ادا کرنا مستحب فعل ہے۔
مالک، شافعی، احمد اور جمہور علماء رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صبح کو روشن کرنا افضل ہے۔
➋ عورتوں کا مسجد میں باجماعت نماز میں حاضر ہونا جائز ہے بشرطیکہ فتنے وغیرہ کا خوف نہ ہو۔ ** [شرح النووي: 143/5] **
➌ ◈ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”نماز فجر اندھیرے میں پڑھنا افضل ہے۔ مالک، شافعی، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی مذہب ہے اور ابو بکر و عمر، ابن مسعود، ابو موسیٰ، عبد اللہ بن زبیر اور عمر بن عبد العزیز رحمہم اللہ سے بھی یہی قول منقول ہے۔“ ** [المغني لابن قدامة: 186/2] **
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز فجر جلدی (اندھیرے میں) ادا کرنا مستحب فعل ہے۔
مالک، شافعی، احمد اور جمہور علماء رحمہم اللہ کا یہی موقف ہے اور ابو حنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صبح کو روشن کرنا افضل ہے۔
➋ عورتوں کا مسجد میں باجماعت نماز میں حاضر ہونا جائز ہے بشرطیکہ فتنے وغیرہ کا خوف نہ ہو۔ ** [شرح النووي: 143/5] **
➌ ◈ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”نماز فجر اندھیرے میں پڑھنا افضل ہے۔ مالک، شافعی، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی مذہب ہے اور ابو بکر و عمر، ابن مسعود، ابو موسیٰ، عبد اللہ بن زبیر اور عمر بن عبد العزیز رحمہم اللہ سے بھی یہی قول منقول ہے۔“ ** [المغني لابن قدامة: 186/2] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 351]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 351 in Urdu
عبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري