صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
296. (63) باب فضيلة الشهادة لله- عز وجل- بوحدانيته وللنبي صلى الله عليه وسلم برسالته وعبوديته وبالرضا بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا عند سماع الأذان وما يرجى من مغفرة الذنوب بذلك.
اذان سن کر اللہ تعالیٰ کی توحید کے قرار، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وعبودیت کی گواہی دینے، اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر رضا مندی کے اظہار اور اس کے باعث گناہوں کی بخشش کی امید کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 422
نا زَكَرِيَّا ابْنُ يَحْيَى بْنِ إِيَاسَ ، نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْحَكِيمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يَتَشَهَّدُ فَالْتَفَتَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالإِسْلامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ"
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا پھر اُس نے اُس کی طرف متوجہ ہو کر یہ کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُهُ اللہ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا وَ بِالْإِسْلَامِ دِينًا» ”گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بیشک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ تعالیٰ کے رسول، میں اللہ تعالیٰ کو رب مان کر اور اسلام کو بطور دین قبول کر کے راضی وخوش ہوں)“ تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 386، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 421، 422، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1693، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 733، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 678، وأبو داود فى (سننه) برقم: 525، والترمذي فى (جامعه) برقم: 210، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 721، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1965، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1585»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 422 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 422
فوائد:
➊ اذان کے بعد مذکورہ کلمات کہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 86/4]
➋ نیز یہ کلمات مؤذن کی اذان کا جواب دینے کے بعد مشروع ہیں اور ان کلمات کا اہتمام کرنے سے سابقہ صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
➊ اذان کے بعد مذکورہ کلمات کہنا مستحب فعل ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 86/4]
➋ نیز یہ کلمات مؤذن کی اذان کا جواب دینے کے بعد مشروع ہیں اور ان کلمات کا اہتمام کرنے سے سابقہ صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 422]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 422 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري