صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
302. (69) باب ذكر الدليل على أن القبلة إنما هي الكعبة لا جميع المسجد الحرام،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ قبلہ صرف کعبہ شریف ہے، پوری مسجد قبلہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 435
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ أَهْلَ قُبَاءَ كَانُوا يُصَلُّونَ قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَأَتَاهُمْ آتٍ، فَقَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، فَاسْتَدَارُوا كَمَا هُمْ" . وَفِي خَبَرِ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَمَّا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اہل قبا بیت المقدس کی طرف مُنہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، تو اُن کے پاس ایک آنے والا آیا، اُس نے کہا کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قران مجید نازل ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ شریف کی طرف مُنہ کر لیا ہے، تو تم بھی اس کی طرف مُنہ کر لو، لہٰذا وہ جس حالت میں تھے اسی میں (کعبہ شریف کی طرف) گھوم گئے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ شریف کی طرف مُنہ کرنے کا حُکم دیا گیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 435]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
عبد الله بن دينار القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي