صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
306. (73) بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ لِلصَّلَاةِ.
نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد کی طرف چل کر جانے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 450
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيَّ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ بَيْتُهُ أَقْصَى بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَ لا تُخْطِئُهُ الصَّلاةُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَوَجَّعْتُ لَهُ، فَقُلْتُ: يَا فُلانُ، لَوْ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا يَقِيكَ الرَّمْضَاءَ وَيَرْفَعُكَ مِنَ الرُّقَعِ وَيَقِيكَ هَوَامَّ الأَرْضِ، فَقَالَ لَهُ: إِنِّي وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ بَيْتِي مُطَنَّبٌ بِبَيْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَحَمَلْتُ بِهِ حَمْلا حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَدَعَاهُ، فَسَأَلَهُ، وَذَكَرَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ يَرْجُو فِي أَثَرِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ"
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کا گھر مدینہ منوّرہ میں (مسجد بنوی سے) سب سے دور تھا (اس کے باوجود) اس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز با جماعت فوت نہیں ہوتی تھی۔ مجھے (اُس کی مشکل کی بنا پر) اُس پربڑاترس آیا۔ تو میں نے اُس سے کہا کہ اے فلان، اگرتم ایک گدھا خرید لو (تو تمہارے لئے بہت بہتر ہے) وہ تمہیں تپتی ہوئی گرم زمین سے بچائے گا، (تمہیں ٹھوکر لگنے سے محفوظ کرے گا اور تمہیں زمینی کیڑے مکوڑوں سے بچائے گا۔ تو اُس نے اُنہیں جواب دیا کہ اللہ کی قسم، بلاشبہ میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ساتھ متصل ہو۔ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات سخت گراں گزری حتیٰ کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ بات بیان کی۔ کہتے ہیں کہ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بلا کر اس کے متعلق پوچھا، تو اُس نے اسی طرح جواب دیا اور کہا کہ وہ اپنے پیدل چل کر آنے میں ثواب کی اُمید رکھتا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے فرمایا ”بیشک تجھے وہی ثواب ملے گا جس کی تُو نے امید رکھی ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 663، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 450، 1500، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2040، وأبو داود فى (سننه) برقم: 557، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1321، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 783، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5059، 20163، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21605»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 450 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← أبي بن كعب الأنصاري