صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
322. (89) باب وضع اليمين على الشمال فى الصلاة قبل افتتاح القراءة.
نماز میں قرأت شروع کرنے سے پہلے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 477
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، نا ابْنُ إِدْرِيسَ ، نا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ:" لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَأَيْتُ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، فَرَفَعَ يَعْنِي يَدَيْهِ، فَرَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ، ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ قَرَأَ" ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منوّرہ آیا تو میں نے (دل میں) کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو (پورے غور سے) ضرور دیکھوں گا۔ تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہا اور اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے برابر تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں کو دائیں ہاتھ کے ساتھ پکڑا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرأت کی، پھر انہوں نے بقیہ حدیث بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، 478، 479، 480، 594، 641، 642، 690، 691، 697، 698، 713، 714، 905، 906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 878، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2342، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 477 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 477
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا مستحب فعل ہے اور حالت قیام میں ہاتھوں کو کھلا چھوڑنا اور لٹکانا غیر مسنون فعل ہے۔
جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
البتہ ابن منذر رحمہ اللہ نے ابن زبیر، حسن بصری اور نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے کہ نمازی ہاتھ کھلے چھوڑتے تھے یا بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ نہیں رکھتے تھے۔
نیز لیث بن سعد، قاسمیہ، ناصریہ اور مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ ** [نیل الأوطار: 191/2] **
لیکن جمہور علماء کا قول دلائل کی رو سے قوی اور راجح ہے۔
➋ حدیث 679 واضح نص ہے کہ قیام کی حالت میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہئیں۔
اور زیر ناف ہاتھ باندھنے کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں، وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہیں۔
نیز کچھ علماء کا موقف لے کر ہاتھ ناف سے اوپر اور سینے سے نیچے باندھنا بھی مرجوح ہے۔
جب کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں واضح نص کی وجہ سے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا ہی مسنون ومستحب طریقہ ہے، اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
❀ نیز یہ حدیث سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ.»
”لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع (کہنی) پر رکھیں۔“ ** [صحیح البخاري: 740] **
یہ حدیث جمہور علماء کے موقف کی تائید کرتی ہے، کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں کہنی پر رکھنے سے ہاتھ خود بخود سینے پر آ جاتے ہیں۔
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا مستحب فعل ہے اور حالت قیام میں ہاتھوں کو کھلا چھوڑنا اور لٹکانا غیر مسنون فعل ہے۔
جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
البتہ ابن منذر رحمہ اللہ نے ابن زبیر، حسن بصری اور نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے کہ نمازی ہاتھ کھلے چھوڑتے تھے یا بائیں ہاتھ پر دایاں ہاتھ نہیں رکھتے تھے۔
نیز لیث بن سعد، قاسمیہ، ناصریہ اور مالک رحمہ اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ ** [نیل الأوطار: 191/2] **
لیکن جمہور علماء کا قول دلائل کی رو سے قوی اور راجح ہے۔
➋ حدیث 679 واضح نص ہے کہ قیام کی حالت میں ہاتھ سینے پر باندھنے چاہئیں۔
اور زیر ناف ہاتھ باندھنے کے بارے میں جتنی روایات منقول ہیں، وہ ضعیف ہونے کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہیں۔
نیز کچھ علماء کا موقف لے کر ہاتھ ناف سے اوپر اور سینے سے نیچے باندھنا بھی مرجوح ہے۔
جب کہ سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں واضح نص کی وجہ سے نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنا ہی مسنون ومستحب طریقہ ہے، اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
❀ نیز یہ حدیث سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
«كَانَ النَّاسُ يُؤْمَرُونَ أَنْ يَضَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ.»
”لوگوں کو حکم دیا جاتا تھا کہ وہ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں ذراع (کہنی) پر رکھیں۔“ ** [صحیح البخاري: 740] **
یہ حدیث جمہور علماء کے موقف کی تائید کرتی ہے، کیونکہ دایاں ہاتھ بائیں کہنی پر رکھنے سے ہاتھ خود بخود سینے پر آ جاتے ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 477]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 477 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي