🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
322. ‏(‏89‏)‏ باب وضع اليمين على الشمال فى الصلاة قبل افتتاح القراءة‏.‏
نماز میں قرأت شروع کرنے سے پہلے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
نا أَبُو مُوسَى ، نا مُؤَمَّلٌ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى صَدْرِهِ"
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ کر سینے پر ہاتھ باندھ لیے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، 478، 479، 480، 594، 641، 642، 690، 691، 697، 698، 713، 714، 905، 906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 878، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2342، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وائل بن حجر الحضرمي، أبو هنيد، أبو هنيدةصحابي
👤←👥كليب بن شهاب الجرمي، أبو عاصم
Newكليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي
ثقة
👤←👥عاصم بن كليب الجرمي
Newعاصم بن كليب الجرمي ← كليب بن شهاب الجرمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عاصم بن كليب الجرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥مؤمل بن إسماعيل العدوي، أبو عبد الرحمن
Newمؤمل بن إسماعيل العدوي ← سفيان الثوري
صدوق سيئ الحفظ
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← مؤمل بن إسماعيل العدوي
ثقة ثبت
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 479 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله،صحیح ابن خزیمہ 479
دونوں ہاتھوں کو باندھنے کی جگہ سینے پر ہے
چنانچہ ابن خزیمہ: (479) میں وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور انہیں سینے پر باندھا۔
البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تحقیق صحیح ابن خزیمہ میں صحیح کہا ہے۔
نیز البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب: صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم (ص 69) میں کہتے ہیں:
دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھنا ہی سنت میں ثابت ہے، جبکہ اس سے متصادم کوئی بھی عمل یا تو ضعیف ہے، یا پھر بے بنیاد ہے۔ انتہی
سندی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ پر اپنے حاشیہ میں کہتے ہیں:
مختصر یہ ہے کہ: جس طرح ہاتھوں کو چھوڑنے کی بجائے انہیں باندھنا ہی سنت ہے، اسی طرح یہ بھی ثابت ہے کہ دونوں ہاتھوں کو باندھنے کی جگہ سینہ ہی ہے، کوئی اور جگہ نہیں ہے، جبکہ یہ حدیث کہ: سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر نماز میں ناف کے نیچے باندھا جائے تو اس حدیث کے ضعیف ہونے پر سب متفق ہیںانتہی
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہی (حنبلی) مذہب میں مشروع عمل ہے اور یہی قول مشہور ہے، اس بارے میں علی رضی اللہ عنہ کی ایک روایت بھی ہے کہ: سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر نماز میں ناف کے نیچے باندھا جائے۔ اسے ابوداود نے روایت کیا ہے، اور نووی، ابن حجر رحمہما اللہ سمیت دیگر ائمہ کرام نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
جبکہ کچھ اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ ہاتھوں کو ناف سے اوپر باندھا جائے، اس بارے میں امام احمد نے واضح لفظوں میں صراحت کی ہے۔
جبکہ دیگر اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھے، اور یہی موقف صحیح ترین ہے، تاہم اس بارے میں صریح نصوص کے بارے میں کچھ نقد کیا گیا ہے، لیکن بخاری کی روایت سہل بن سعد والی سے اس بات کی واضح تائید ہوتی ہے کہ ہاتھوں کے باندھنے کی جگہ سینہ ہی ہے، نیز سینے پر ہاتھ باندھنے کے بارے میں سب سے اچھی حدیث -اگرچہ اس پر کچھ نہ کچھ نقطہ چینی کی گئی ہے - وہ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ والی روایت ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھا کرتے تھے۔ [الشرح الممتع 3/36، 37]
[اسلام کیو اے، حدیث/صفحہ نمبر: 59957]

حافظ زبير على زئي رحمه الله،صحیح ابن خزیمہ 479
نماز میں سینے پر ہاتھ باندھنے والی ایک اور حدیث صحیح ہے۔
◈ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (متوفی 597ھ) نے فرمایا:
«أخبارنا ابن الحصين قال: أنبأنا ابن المذهب قال: أنبأنا أحمد بن جعفر قال: حدثنا عبد الله بن أحمد قال: حدثني أبي قال: حدثنا يحيى بن سعيد قال: حدثنا سفيان قال: حدثني سماك عن قبيصة بن هلب عن أبيه قال: رأيت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يضع هذه على هذه على صدره. ووصف يحيى اليمينى على اليسرى فوق المفصل.»
❀ ہُلب الطائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ یہ (دایاں ہاتھ) اس (بائیں ہاتھ) پر سینے پر رکھتے تھے۔
اور یحییٰ (القطان) نے دائیں (ہاتھ) کو بائیں (ہاتھ) پر جوڑ پر رکھ کر بتایا یا دکھایا۔ [التحقيق في اختلاف الحديث: 283/1 ح 477، دوسرا نسخہ 338/1 ح 434]
اس حدیث میں «هذه علٰي هذه» یعنی دو دفعہ «هذه» آیا ہے جو کہ مسند احمد کے مطبوعہ نسخوں میں دو دفعہ چھپنے سے رہ گیا ہے، لیکن حافظ ابن الجوزی کی امام احمد تک سند بالکل صحیح ہے جیسا کہ راویوں کی درج ذیل تحقیق سے صاف ظاہر ہے:
➊ ہبۃ اللہ بن محمد بن عبد الواحد بن احمد بن الحصین الشیبانی ثقہ صحیح السماع ہیں۔ [المنتظم لابن الجوزي: 268/17، تحقیقی مقالات: 397/1-398]
➋ ابن المذہب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 396/1-397، تاريخ بغداد: 36/14، ميزان الاعتدال: 511/1]
➌ احمد بن جعفر القطیعی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں اور مسند احمد کے بنیادی راویوں میں سے ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 393/1-396]
ابن المذہب نے اُن کے اختلاط سے پہلے اُن سے سنا تھا۔ [لسان الميزان: 145/1-146]
لہٰذا یہاں اختلاط کا اعتراض بھی مردود ہے۔
➍ عبد اللہ بن احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔ [تحقیقی مقالات: 392/1-393]
➎ امام احمد بن حنبل بالاجماع ثقہ ہیں۔
➏ امام یحییٰ بن سعید القطان بالاجماع ثقہ ہیں۔
➐ امام سفیان ثوری بالاجماع ثقہ ہیں اور آپ مدلس بھی تھے لیکن اس روایت میں آپ نے سماع کی تصریح کر دی ہے، لہٰذا یہاں تدلیس کا اعتراض مردود ہے۔
➑ سماک بن حرب صحیح مسلم کے بنیادی راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ [نصر الرب في توثيق سماك بن حرب، نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 39-49]
◈ سماک کے شاگرد امام سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا:
«ما يسقط لسماك بن حرب حديث»
سماک کی کوئی حدیث ساقط نہیں ہوتی۔ [تاريخ بغداد: 215/9 وسندہ صحیح]
یاد رہے کہ امام سفیان ثوری کا سماک سے سماع سماک کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔ [نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام ص 47]
➒ قبیصہ بن ہلب الطائی رحمہ اللہ
قبیصہ کو درج ذیل علمائے محدثین نے صراحتاً یا تصحیحِ حدیث کے ذریعے سے ثقہ و صدوق قرار دیا۔
(1) عجلی نے فرمایا:
«تابعي ثقة» [تاريخ الثقات: 1379]
(2) ابن حبان نے فرمایا:
اُن کا ذکر ثقات میں کیا ہے۔ [الثقات: 319/5]
(3) ترمذی نے فرمایا:
اُن کی حدیث کو حسن کہا ہے۔ [سنن الترمذي: 252، 301، 1565]
(4) بغوی نے فرمایا:
اُن کی حدیث کے متعلق فرمایا: «هذا حديث حسن» [شرح السنة: 31/3 ح 570]
(5) ابن عبد البر نے فرمایا:
اُن کی حدیث کے متعلق فرمایا: «وهو حديث صحيح» [الاستيعاب في أسماء الأصحاب: 329/2]
جمہور کی توثیق کے مقابلے میں امام ابن المدینی اور امام نسائی کا قبیصہ بن ہلب کو مجہول کہنا صحیح نہیں، بلکہ یہاں جمہور کی ترجیح کی وجہ سے توثیق ہی مقدم ہے۔
➓ ہلب الطائی رضی اللہ عنہ صحابی ہیں۔
تحقیق کا خلاصہ: اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ حدیث اصولِ حدیث اور اصولِ محدثین کی رُو سے بالکل حسن لذاتہ یا صحیح یعنی حجت ہے۔
[تحریر الشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 479 in Urdu