الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
325. (92) باب ذكر الدليل على أن الالتفات فى الصلاة ينقص الصلاة لا أنه يفسدها فسادا يجب عليه إعادتها.
اس بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں ادھر اُدھر متوجہ ہونا نماز (کے اجر و ثواب) میں کمی کا باعث بنتا ہے، لیکن یہ التفات نماز کو فاسد نہیں کرتا کہ نمازی کو نماز دہرانی پڑے۔
حدیث نمبر: 484
نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ أَيْضًا، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْرَائِيلَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَامٍ الْمِصْرِيُّ ، نا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ ، نا أَبُو الأَحْوَصِ ، جَمِيعًا، عَنْ أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الالْتِفَاتِ فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ:" هُوَ اخْتِلاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاةِ الْعَبْدِ" . وَفِي خَبَرِ أَبِي الأَحْوَصِ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلاةِ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں التفات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اُچک لینا ہے جسے شیطان بندے کی نماز سے اُچک لیتا ہے۔“ ابوالاحوص کی روایت میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں آدمی کی بے توجہی اور اِدھر اُدھر جھا نکنے کے بارے میں سوال کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق