صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
339. (106) باب إباحة الجهر ببعض الآي فى صلاة الظهر والعصر.
ظہر اور عصر کی نماز میں بعض آیتوں کو جہری (بلندآواز سے) پڑھنا جائز ہے
حدیث نمبر: 507
نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ ، نا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو وَهُوَ الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ . ح وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلانِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَسُورَتَيْنِ مَعَهَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ وَصَلاةِ الْعَصْرِ، وَيُسْمِعُنَا الآيَةَ أَحْيَانًا، وَكَانَ يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ" . قَالَ عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ أَيْضًا:" يُطَوِّلُ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ"
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ اپنے والد سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر اور نماز عصر کی پہلی دو رکعت میں اُم القرآن اور اس کے ساتھ دیگر دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور کبھی کبھار ہمیں ایک آیت سنا دیا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرتے تھے۔ اس حدیث کے راوی جناب علی بن سہل نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں، «عن ابيه» یعنی انہوں نے «حدثني ابي» ”مجھے میرے والد محترم نے حدیث بیان کی“ کے بجائے «عن ابيه» کے الفاظ روایت کئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کی پہلی رکعت کو طویل کیا کرتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 507]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 759، 762، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 451، وابن الجارود فى "المنتقى"، 208، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 503، 504، 507، 1580، 1588، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1829، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 973، وأبو داود فى (سننه) برقم: 798، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 819، 829، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2499، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19728»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 507 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 507
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت سری ہے، البتہ کبھی کسی آیت کو اونچی آواز سے پڑھنا صحتِ نماز کے لیے مضر نہیں اور سری نمازوں میں یہ شرط عائد کرنا کہ ان نمازوں میں بالکل سکوت ہونا چاہیے درست نہیں، بلکہ کبھی کبھار کسی آیت کو بلند آواز سے پڑھ لینا درست ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ ظہر و عصر کی نمازوں میں قراءت سری ہے، البتہ کبھی کسی آیت کو اونچی آواز سے پڑھنا صحتِ نماز کے لیے مضر نہیں اور سری نمازوں میں یہ شرط عائد کرنا کہ ان نمازوں میں بالکل سکوت ہونا چاہیے درست نہیں، بلکہ کبھی کبھار کسی آیت کو بلند آواز سے پڑھ لینا درست ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 507]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 507 in Urdu
عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي