صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
353. (120) بَابُ إِبَاحَةِ جَمْعِ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ الْوَاحِدَةِ مِنَ الْمُفَصَّلِ.
ایک رکعت میں مفصل سے کئی سورتوں کو جمع کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 539
نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، نا عُثْمَانُ ابْنُ عُمَرَ ، نا كَهْمَسٌ . ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، أنا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْمَعُ بَيْنَ السُّوَرِ فِي الرَّكْعَةِ؟ قَالَتِ:" الْمُفَصَّلُ" . هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ:" إِذَا جَاءَ مِنْ مَغِيبِهِ؟"، قُلْتُ: أَكَانَ يَقْرِنُ السُّوَرَ؟ قَالَتِ:" الْمُفَصَّلُ"، قُلْتُ: أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا؟ قَالَتْ:" بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ"
حضرت عبداللہ بن شقیق العقیلی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں جمع کرکے پڑھ لیتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) مفصل سورتیں (پڑھ لیا کرتے تھے) یہ وکیع کی حدیث ہے۔ جناب دورقی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں (عبداللہ بن شقیق العقیلی) نے کہا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (ہاں) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر سے واپس آتے (تو پڑھتے تھے) میں نےعرض کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورتوں کو ملا کر پڑھ لیتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ (ہاں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مفصل سورتیں (ملا کر پڑھ لیتے تھے) میں نے دریافت کیا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ (ہاں) جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوڑھا اور کمزور کر دیا (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 539]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 717، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 539، 1241، 2132، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2526، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 982، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1656، وأبو داود فى (سننه) برقم: 956، 1292، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2503، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24972»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 539 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 539
فوائد:
یہ احادیث بھی دلیل ہیں کہ ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ کے سوا دو سورتوں کی تلاوت کرنا جائز عمل ہے۔
نوافل میں تو نمازی کو اختیار ہے کہ حسب منشا قیام طویل کر سکتا ہے۔
لیکن فرض نمازوں میں مقتدیوں کا خیال رکھنا لازم ہے اور اگر مقتدی طویل قیام پر راضی ہوں تو قرأت کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔
یہ احادیث بھی دلیل ہیں کہ ایک رکعت میں سورۂ فاتحہ کے سوا دو سورتوں کی تلاوت کرنا جائز عمل ہے۔
نوافل میں تو نمازی کو اختیار ہے کہ حسب منشا قیام طویل کر سکتا ہے۔
لیکن فرض نمازوں میں مقتدیوں کا خیال رکھنا لازم ہے اور اگر مقتدی طویل قیام پر راضی ہوں تو قرأت کو لمبا کیا جا سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 539]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 539 in Urdu
يعقوب بن إبراهيم العبدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق