صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
356. (123) باب الدعاء فى الصلاة بالمسألة عند قراءة آية الرحمة، والاستعاذة عند قراءة آية العذاب، والتسبيح عند قراءة آية التنزيه.
نماز میں آیتِ رحمت کی تلاوت کے وقت اللہ تعالیٰ سے رحمت کا سوال کرنے، کسی آیتِ عذاب کی قرأت کے بعد اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور آیتِ تنزیہ کی تلاوت کرنے کے بعد تسبیح پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 543
نا بُنْدَارٌ ، نا يَحْيَى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ ، عَنْ صِلَةَ بْنِ ظَفَرٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، مَا مَرَّ بِآيَةِ رَحْمَةٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَلا مَرَّ بِآيَةِ عَذَابٍ إِلا وَقَفَ عِنْدَهَا فَتَعَوَّذَ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آیت رحمت تلاوت کرتے تو رُک کر اللہ تعالیٰ سے رحمت کی دعا مانگتے اور جب بھی آیت عذاب کو پڑھتے تو ٹھہر کر اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ یہ ابوموسیٰ کی حدیث ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 543]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 772، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 542، 543، 603، 660، 668، 669، 684، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1897، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1008، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1007، وأبو داود فى (سننه) برقم: 871، 874، والترمذي فى (جامعه) برقم: 262، 263، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 888، 897، 1351، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2595، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23712»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 543 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 543
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ آیتِ سوال (یعنی جس آیت میں جنت طلبی کا ذکر ہو) سے گزرتے وقت جنت کا سوال کرنا، جہنم سے پناہ طلبی کی آیت پڑھتے وقت جہنم سے پناہ طلب کرنا اور جس آیت میں تسبیح کا بیان ہو، وہاں تسبیح کہنا مشروع فعل ہے۔
شافعیہ بھی اس عمل کے استحباب کے قائل ہیں اور راوی نے اس مشروعیت کو نوافل سے مقید کیا ہے۔ [نيل الأوطار: 344/2]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ آیتِ سوال (یعنی جس آیت میں جنت طلبی کا ذکر ہو) سے گزرتے وقت جنت کا سوال کرنا، جہنم سے پناہ طلبی کی آیت پڑھتے وقت جہنم سے پناہ طلب کرنا اور جس آیت میں تسبیح کا بیان ہو، وہاں تسبیح کہنا مشروع فعل ہے۔
شافعیہ بھی اس عمل کے استحباب کے قائل ہیں اور راوی نے اس مشروعیت کو نوافل سے مقید کیا ہے۔ [نيل الأوطار: 344/2]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 543]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 543 in Urdu
صلة بن زفر العبسي ← حذيفة بن اليمان العبسي