صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
418. (185) باب إباحة وضع اليدين فى السجود حذاء الأذنين، وهذا من اختلاف المباح.
سجدے میں دونوں ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھنا جائز ہے اور یہ جائز اختلاف کی قسم سے ہے
حدیث نمبر: 641
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُهُ" حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ كَبَّرَ، فَرَفَعَ يَعْنِي يَدَيْهِ، فَرَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ بِحِذَاءِ أُذُنَيْهِ" فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ، وَقَالَ:" ثُمَّ هَوَى فَسَجَدَ، فَصَارَ رَأْسُهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ مِقْدَارَ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلاةَ"
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منوّرہ آیا تو میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ میں ضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو (غور سے) دیکھوں گا۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز شروع کی تو «اللهُ أَكْبَرُ» کہا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں کانوں کے برابر دیکھا۔ پھر کچھ حدیث بیان کی اور فرمایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جُھکے اور سجدہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کے درمیان اسی مقدارمیں ہو گیا جتنی مقدار اُس وقت تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تھی۔ (یعنی کانوں کے برابر) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 641]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، 478، 479، 480، 594، 641، 642، 690، 691، 697، 698، 713، 714، 905، 906، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 878، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، 724، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2342، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 641 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 641
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ میں ہاتھ کانوں یا کندھوں کے برابر ہونے چاہییں۔
اور بعض علماء نے ان دو روایتوں میں یوں تطبیق دی ہے کہ سجدہ میں انگوٹھوں کے کنارے کانوں کے برابر اور ہتھیلیاں کندھوں کے برابر ہونی چاہییں۔ [فقه السنة: 155/1]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ سجدہ میں ہاتھ کانوں یا کندھوں کے برابر ہونے چاہییں۔
اور بعض علماء نے ان دو روایتوں میں یوں تطبیق دی ہے کہ سجدہ میں انگوٹھوں کے کنارے کانوں کے برابر اور ہتھیلیاں کندھوں کے برابر ہونی چاہییں۔ [فقه السنة: 155/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 641]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 641 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي