صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
424. (191) باب التجافي فى السجود.
سجدے میں بازؤں کو پہلوؤں سے دور رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 650
نا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، قَالَ: هَذَا مِمَّا كُنْتُ قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، وَحَدَّثَنِي أَبُو حَرِيزٍ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْحَضْرَمِيَّ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا سَجَدَ يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ" . نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ:" يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ"
حضرت عدی بن عمیرہ الحضرمی بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ امام صاحب کے استاد جناب محمد بن عبد الاعلی صنعانی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 650، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18003، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 18004، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1609، والطبراني فى(الكبير) برقم: 263، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 8522»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 650 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 650
فوائد:
سجدہ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ سجدہ میں اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھے اور وہ اپنی کہنیاں زمین سے اور اپنے پہلوؤں سے خوب بلند رکھے کہ اگر بغلیں ڈھکی نہ ہوں تو بغلوں کا اندرونی حصہ واضح نظر آئے۔
سجدہ کے اس ادب کے استحباب پر علماء کا اتفاق ہے اور اگر نمازی یہ طریقہ ترک کر دے وہ خطا کا مرتکب ہوگا، لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی۔
یہ نہی تنزیہی ہے۔
◈ علماء بیان کرتے ہیں: مذکورہ فعل کی حکمت یہ ہے کہ اس عمل میں انتہائی تواضع اور انکساری ہے۔
نیز اس طرح چہرہ اور پیشانی اچھی طرح زمین پر لگتے ہیں اور یہ سستی و کاہلی کی صورتوں سے بعید تر ہے۔
نیز سجدہ میں بازو پھیلانا کتے سے مشابہت ہے اور اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی سستی اور عدم اہتمام کا شکار ہے۔ [شرح النووي: 308/4]
سجدہ کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ سجدہ میں اپنی ہتھیلیاں زمین پر رکھے اور وہ اپنی کہنیاں زمین سے اور اپنے پہلوؤں سے خوب بلند رکھے کہ اگر بغلیں ڈھکی نہ ہوں تو بغلوں کا اندرونی حصہ واضح نظر آئے۔
سجدہ کے اس ادب کے استحباب پر علماء کا اتفاق ہے اور اگر نمازی یہ طریقہ ترک کر دے وہ خطا کا مرتکب ہوگا، لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی۔
یہ نہی تنزیہی ہے۔
◈ علماء بیان کرتے ہیں: مذکورہ فعل کی حکمت یہ ہے کہ اس عمل میں انتہائی تواضع اور انکساری ہے۔
نیز اس طرح چہرہ اور پیشانی اچھی طرح زمین پر لگتے ہیں اور یہ سستی و کاہلی کی صورتوں سے بعید تر ہے۔
نیز سجدہ میں بازو پھیلانا کتے سے مشابہت ہے اور اس فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی سستی اور عدم اہتمام کا شکار ہے۔ [شرح النووي: 308/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 650]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 650 in Urdu
الفضيل بن ميسرة الأزدي ← عبد الله بن الحسن الأزدي