صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. (211) بَابُ الِاعْتِمَادِ عَلَى الْيَدَيْنِ عِنْدَ النُّهُوضِ إِلَى الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَإِلَى الرَّابِعَةِ.
دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کا سہارا لینے کا بیان
حدیث نمبر: 687
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ مَا بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" فَصَلَّى فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلاةٍ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ اسْتَوَى قَاعِدًا، ثُمَّ قَامَ وَاعْتَمَدَ عَلَى الأَرْضِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلابَةَ خَرَّجْتُهُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ
حضرت ابوقلابہ رحمہ الله بیان کرتے ہیں کہ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے تو اُنہوں نے فرمایا، کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ بیان کروں؟ چنانچہ اُنہوں نے نماز کے وقت کے بغیر نماز پڑھی (اور ہمیں دکھائی) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت کے دوسرے سجدے سے اپنا سر اُٹھایا تو سیدھے بیٹھ گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور زمین پر ہاتھوں سے سہارا لیا، امام ابوبکر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ میں نے ایوب کی ابوقلابہ سے روایت کو کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 677، 802، 824، وابن الجارود فى "المنتقى"، 227، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 687، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1935، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1150، وأبو داود فى (سننه) برقم: 842، 843، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2665، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15839»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 687 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 687
فوائد:
➊ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
چنانچہ جمہور علماء کے نزدیک دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت پہلے ہاتھ اٹھانا اور بعد میں گھٹنے اٹھانا مستحب فعل ہے، جب کہ دیگر علماء کے نزدیک پہلے ہاتھ اٹھانے سے قبل گھٹنے اٹھانے چاہئیں۔ ** [فقہ السنۃ: 150/1] **
➋ حدیث الباب دوسرے موقف کی تائید کرتی ہے کہ دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھتے وقت ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھنا مشروع ہے۔
◈ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھنا مسنون ہے۔ ** [المغنی: 423/2] **
➊ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کی کیفیت کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔
چنانچہ جمہور علماء کے نزدیک دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت پہلے ہاتھ اٹھانا اور بعد میں گھٹنے اٹھانا مستحب فعل ہے، جب کہ دیگر علماء کے نزدیک پہلے ہاتھ اٹھانے سے قبل گھٹنے اٹھانے چاہئیں۔ ** [فقہ السنۃ: 150/1] **
➋ حدیث الباب دوسرے موقف کی تائید کرتی ہے کہ دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اٹھتے وقت ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھنا مشروع ہے۔
◈ امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ ہاتھوں کا سہارا لے کر اٹھنا مسنون ہے۔ ** [المغنی: 423/2] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 687]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 687 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← مالك بن الحويرث الليثي