صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
449. (216) باب إدخال القدم اليسرى بين الفخذ اليمنى والساق فى الجلوس فى التشهد.
تشہد میں بیٹھتے وقت بائیں قدم کو دائیں ران اور پنڈلی کے درمیان داخل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 696
نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا قَعَدَ فِي الصَّلاةِ، جَعَلَ قَدَمَهُ الْيُسْرَى بَيْنَ فَخِذِهِ وَسَاقِهِ، وَوَضَعَ يَدِهِ الْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ الْيُسْرَى، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَأَشَارَ بِأُصْبُعِهِ" . وَأَشَارَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ
حضرت عامر بن عبداللہ بن الزبیر اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں (تشہد) میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں کو اپنی ران اور پنڈلی کے درمیان کر لیتے، اور اپنے بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھتے اور اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کرتے۔ عبدالواحد نے اپنی سبابہ انگلی کے ساتھ اشارہ کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 579، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 696، 718، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1943، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1160، وأبو داود فى (سننه) برقم: 988، 989، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2826، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1324، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16350، والحميدي فى (مسنده) برقم: 903»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 696 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 696
فوائد:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشہد میں بیٹھنے کا عام معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تشہد میں بایاں پاؤں پھیلا کر اس پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور آخری تشہد میں تورک کرتے، بائیں پاؤں کو دائیں ٹانگ کے نیچے سے نکال کر بائیں سرین پر بیٹھتے تھے۔
لیکن اس حدیث میں تشہد میں بیٹھنے کا ایک تیسرا طریقہ ہے کہ بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی اور ران کے درمیان داخل کیا جائے اور دایاں پاؤں باہر کی طرف پھیلایا جائے۔
یہ طریقہ بھی مسنون ہے۔
➋ تشہد میں دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھنا مستحب ہے اور دوران تشہد انگشت شہادت کو مسلسل حرکت دینا بھی مستحب فعل ہے۔
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تشہد میں بیٹھنے کا عام معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تشہد میں بایاں پاؤں پھیلا کر اس پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے اور آخری تشہد میں تورک کرتے، بائیں پاؤں کو دائیں ٹانگ کے نیچے سے نکال کر بائیں سرین پر بیٹھتے تھے۔
لیکن اس حدیث میں تشہد میں بیٹھنے کا ایک تیسرا طریقہ ہے کہ بائیں پاؤں کو دائیں پنڈلی اور ران کے درمیان داخل کیا جائے اور دایاں پاؤں باہر کی طرف پھیلایا جائے۔
یہ طریقہ بھی مسنون ہے۔
➋ تشہد میں دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھنا مستحب ہے اور دوران تشہد انگشت شہادت کو مسلسل حرکت دینا بھی مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 696]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 696 in Urdu
عامر بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن الزبير الأسدي