صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
450. (217) باب وضع الفخذ اليمنى على الفخذ اليسرى فى الجلوس فى التشهد
تشہد میں بیٹھتے وقت دائیں ران کو بائیں ران پر رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 699
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يَقُولُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ، وَكَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى تَحْتَ الْيُمْنَى"
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہر) دو رکعت میں تشہد میں بیٹھتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں ٹانگ کو بائیں ٹانگ کے نیچے بچھاتے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأذان والإقامة/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 498، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 699، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1768، وأبو داود فى (سننه) برقم: 783، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1272، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 812، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2296، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24664»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 699 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 699
فوائد:
➊ ان احادیث میں تشہد اول میں بیٹھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ تشہد اول میں بایاں پاؤں بچھا کر دائیں ٹانگ کے نیچے داخل کرنا اور دایاں پاؤں زمین پر کھڑا رکھنا مسنون ہے۔
➋ نیز حافظ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے ان احادیث سے جو استدلال کیا کہ تشہد میں دائیں ران کو بائیں ران پر رکھنا جائز ہے، ایک تو یہ عقلاً محال ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
➌ دوسرا سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی تمام روایات میں «وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ران بائیں ران پر رکھی) کے بجائے «وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا) کے الفاظ ہیں۔
➍ لہذا ابن خزیمہ کا یہ استدلال ان الفاظ کے شذوذ کی وجہ سے درست نہیں۔
➊ ان احادیث میں تشہد اول میں بیٹھنے کا طریقہ بیان ہوا ہے کہ تشہد اول میں بایاں پاؤں بچھا کر دائیں ٹانگ کے نیچے داخل کرنا اور دایاں پاؤں زمین پر کھڑا رکھنا مسنون ہے۔
➋ نیز حافظ ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے ان احادیث سے جو استدلال کیا کہ تشہد میں دائیں ران کو بائیں ران پر رکھنا جائز ہے، ایک تو یہ عقلاً محال ہے کہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
➌ دوسرا سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے مروی تمام روایات میں «وَضَعَ فَخِذَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں ران بائیں ران پر رکھی) کے بجائے «وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى» (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنی بائیں ران پر رکھا) کے الفاظ ہیں۔
➍ لہذا ابن خزیمہ کا یہ استدلال ان الفاظ کے شذوذ کی وجہ سے درست نہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 699]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 699 in Urdu
أوس بن عبد الله الربعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق