صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
492. (259) بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الصَّلَاةِ فِي بَعْضِ الثَّوْبِ الْوَاحِدِ يَكُونُ بَعْضُهُ عَلَى الْمُصَلِّي وَبَعْضُهُ عَلَى غَيْرِهِ.
ایک کپڑے کے کچھ حصّے میں نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان جبکہ اس کپڑے کا کچھ حصّہ نمازی پر اور کچھ حصّہ کسی دوسرے شخص پر ہو
حدیث نمبر: 768
أنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي وَعَلَيَّ مِرْطٌ، عَلَيَّ بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضٌ، وَأَنَا حَائِضٌ" . الْمِرْطُ أَكْسِيَةٌ مِنْ صُوفٍ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جبکہ میرے اوپر ایک اُونی چادر ہوتی، اُس کا کچھ حصّہ میرے اوپر ہوتا اور کچھ حصّہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہوتا حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 333، 379، 381، 517، 518، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 513، وابن الجارود فى "المنتقى"، 149، 195، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 768، 1007، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2329، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 272، وأبو داود فى (سننه) برقم: 369، 656، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 653، 958، 1028، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27446، والحميدي فى (مسنده) برقم: 312»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 768 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 768
فوائد:
➊ حائضہ عورت کے نمازی کے پہلو میں لیٹنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، شافعیہ اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ لیکن ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایسی نماز کو باطل قرار دیتے ہیں۔
➋ حائضہ کا لباس پاک ہے، البتہ وہ حصہ جہاں حیض کا خون یا نجاست لگی ہو وہ نجس ہے۔
➌ حائضہ کے سامنے اور ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے، جس کا بعض حصہ نمازی پر اور بعض حصہ حائضہ عورت پر ہو۔ [شرح النووي: 229/4]
➊ حائضہ عورت کے نمازی کے پہلو میں لیٹنے سے نماز باطل نہیں ہوتی، شافعیہ اور جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔
◈ لیکن ابوحنیفہ رحمہ اللہ ایسی نماز کو باطل قرار دیتے ہیں۔
➋ حائضہ کا لباس پاک ہے، البتہ وہ حصہ جہاں حیض کا خون یا نجاست لگی ہو وہ نجس ہے۔
➌ حائضہ کے سامنے اور ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا جائز ہے، جس کا بعض حصہ نمازی پر اور بعض حصہ حائضہ عورت پر ہو۔ [شرح النووي: 229/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 768]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 768 in Urdu
عبد الله بن شداد الليثي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية