صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
495. (262) باب ذكر الخبر المتقصي المفسر للفظة المختصرة التى ذكرتها قبل،
اس مختصر روایت کی تفصیل بیان کرنے والی مفسر روایت کا ذکر جو میں نے اس سے پہلے بیان کی ہے
حدیث نمبر: Q771
وَالدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِاشْتِمَالَ الْمُبَاحَ فِي الصَّلَاةِ وَضْعُ طَرَفَيِ الثَّوْبِ عَلَى الْعَاتِقَيْنِ.
اور بات کی دلیل کا بیان کہ نماز میں جائز استعمال یہ کہ کپڑے کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں پر ڈال لیا جائے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: Q771]
حدیث نمبر: 771
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ مُشْتَمِلا بِهِ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاضِعًا طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ"
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے اس کے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں پر ڈال کر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب اللباس فى الصلاة/حدیث: 771]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 354، 355، 356، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 517، ومالك فى (الموطأ) برقم: 464، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 761، 770، 771، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2291، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 763، وأبو داود فى (سننه) برقم: 628، والترمذي فى (جامعه) برقم: 339، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1049، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3333، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16587»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن أبي سلمة القرشي، أبو حفص | صحابي صغير | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن أبي سلمة القرشي | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب محمد بن العلاء الهمداني ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 771 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 771
فوائد:
➊ اگر نماز کے لیے ایک چھوٹا کپڑا میسر ہے، جسے پورے جسم پر لپیٹنا ناممکن ہو تو اس کا تہبند باندھنا کافی ہے، خواہ کندھے ننگے ہی رہیں۔
➋ اگر کشادہ کپڑا میسر ہو تو اسے پورے بدن پر لپیٹنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کے کنارے کندھوں پر مختلف ہوں۔
➌ «اِشْتِمَالَ الْيَهُودُ» سے مراد یہ ہے کہ جسم پر کپڑا اس طریقے سے لپیٹا گیا ہو کہ ہاتھ باہر نہ رہیں اور انسان مقید ہو کر رہ جائے۔ نماز میں یہ صورت مکروہ ہے۔
➊ اگر نماز کے لیے ایک چھوٹا کپڑا میسر ہے، جسے پورے جسم پر لپیٹنا ناممکن ہو تو اس کا تہبند باندھنا کافی ہے، خواہ کندھے ننگے ہی رہیں۔
➋ اگر کشادہ کپڑا میسر ہو تو اسے پورے بدن پر لپیٹنا جائز ہے، بشرطیکہ اس کے کنارے کندھوں پر مختلف ہوں۔
➌ «اِشْتِمَالَ الْيَهُودُ» سے مراد یہ ہے کہ جسم پر کپڑا اس طریقے سے لپیٹا گیا ہو کہ ہاتھ باہر نہ رہیں اور انسان مقید ہو کر رہ جائے۔ نماز میں یہ صورت مکروہ ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 771]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 771 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن أبي سلمة القرشي