🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
61. ‏(‏61‏)‏ باب النهي عن الاستطابة باليمين
دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 79
نا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ . ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلا يَمَسَّ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَلا يَسْتَنْجِ بِيَمِينِهِ، وَلا يَتَنَفَّسْ فِي الإِنَاءِ" . هَذَا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي كُلِّهَا: عَنْ عَنْ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے، اور نہ اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ (مشروب پیتے ہوئے) برتن میں سانس لے۔ یہ عمرو بن ابی سلمہ کی روایت ہے اور علی بن حجر نے پوری سند میں «‏‏‏‏عن عن» ‏‏‏‏ کہا ہے۔ (یعنی کہیں بھی «‏‏‏‏حدثنا» ‏‏‏‏ یا «‏‏‏‏سمع» ‏‏‏‏ کا لفظ نہیں بولا) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالأحجار/حدیث: 79]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 153، 154، 5630، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 267، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 68، 78، 79، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1434، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 24 /، وأبو داود فى (سننه) برقم: 31، والترمذي فى (جامعه) برقم: 15، 1889، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 310، 310 م، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19729»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحارث بن ربعي السلمي، أبو قتادةصحابي
👤←👥عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري، أبو إبراهيم، أبو يحيى
Newعبد الله بن أبي قتادة الأنصاري ← الحارث بن ربعي السلمي
ثقة
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← عبد الله بن أبي قتادة الأنصاري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥عمرو بن أبي سلمة التنيسي، أبو حفص
Newعمرو بن أبي سلمة التنيسي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
صدوق له أوهام
👤←👥نصر بن مرزوق، أبو الفتح
Newنصر بن مرزوق ← عمرو بن أبي سلمة التنيسي
مجهول الحال
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← نصر بن مرزوق
ثقة مأمون
👤←👥عبد الله بن المبارك الحنظلي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن المبارك الحنظلي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة ثبت فقيه عالم جواد مجاهد جمعت فيه خصال الخير
👤←👥علي بن حجر السعدي، أبو الحسن
Newعلي بن حجر السعدي ← عبد الله بن المبارك الحنظلي
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 79 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 79
فوائد:
➊ بائیں ہاتھ سے استنجا کرنا آداب استجا میں شامل ہے اور علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا ممنوع فعل ہے۔ پھر جمہور علماء کا مذہب ہے کہ یہ نہی تنزیہی اور ادب ہے، حرام نہیں جب کہ بعض اہل ظاہر کا موقف ہے کہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرنا حرام ہے۔ ہمارے اصحاب کا موقف ہے کہ امور استنجا میں سے کسی بھی کام کے لیے بلا عذر دایاں ہاتھ استعمال کرنا مکروہ ہے، چنانچہ جب وہ پانی سے استنجا کرے تو استنجا کرنے والا دائیں ہاتھ سے پانی گرائے اور بائیں ہاتھ سے صفائی کرے اور اگر پتھر سے استنجا کرے تو دبر کی صفائی کرتے وقت بائیں ہاتھ سے پتھر سے صفائی کرے اور اگر قبل کی صفائی مقصود ہو تو اگر زمین پر یا پاؤں کے درمیان پتھر رکھنے سے صفائی ممکن ہو تو بائیں ہاتھ سے ذکر پکڑ کر پتھر پر رگڑے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو بلکہ پتھر اٹھا کر صفائی کرنا مجبوری ہو تو دائیں ہاتھ میں پتھر تھامے اور بائیں ہاتھ سے ذکر پکڑ کر پتھر پر رگڑے اور دائیں ہاتھ کو حرکت نہ دے۔ استنجا کی یہی صورت راجح ہے۔
[نووي: 155/3]
➋ دائیں ہاتھ سے عضو تناسل پکڑنا مکروہ تنزیہی ہے، حرام نہیں۔ «ولا يتنفس فى الاناء» ، پانی پیتے وقت برتن میں سانس نہ لیا جائے اور پانی پیتے وقت برتن کے باہر تین سانس لیتا معروف سنت ہے۔ علماء بیان کرتے ہیں کہ برتن میں سانس لینے کی ممانعت پانی پینے کا ادب ہے اور یہ ممانعت اس اندیشے کے پیش نظر ہے کہ اس سے پانی بدبودار نہ ہو اور پانی پیتے وقت منہ یا ناک سے کوئی چیز پانی میں گرنہ پڑے۔
[نووي: 159/3]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 79]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 79 in Urdu