صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
546. (313) باب نسخ الكلام فى الصلاة، وحظره بعدما كان مباحا
نمازمیں کلام کے منسوخ ہونے اور اس کے جائز ہونے کے بعد ممنوع ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 858
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى نا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يُصَلِّي بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: فَرَدَّ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" إِنَّ فِي الصَّلاةِ لَشُغْلا" قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ: كَيْفَ تُسَلِّمُ أَنْتَ؟ قَالَ: أَرُدُّ فِي نَفْسِي
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں سلام کیا کرتے تھے۔ گزشتہ حدیث کے مثل بیان کیا۔ اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سلام کا جواب دیا (بعد میں حُکم تبدیل ہوگیا) اور فرمایا: ” بیشک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔“ (اس لئے سلام کا جواب نماز کی حالت میں کلام کے ساتھ نہ دیا کرو) میں نے ابراہیم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیسے سلام کرتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ میں اپنے دل میں جواب دے دیتا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الكلام المباح فى الصلاة والدعاء والذكر، ومسألة الرب عز وجل وما يضاهي هذا ويقاربه/حدیث: 858]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1199، 1216، 3875، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 538، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 855، 858، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2243، 2244، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1219، وأبو داود فى (سننه) برقم: 923، 924، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1019، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2944، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1290، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3633»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 858 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 858
فوائد:
◈ ➊ مصلحت و غیر مصلحت کے لیے نماز میں کلام حرام ہے اور نماز میں بول کر سلام کا جواب دینا بھی حرام ہے۔
اشارے سے سلام کا جواب دینا نقصان دہ نہیں، بلکہ یہ مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 5/26]
◈ ➋ ❀ «أُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنَهَيْنَا عَنِ الْكَلَامِ» .
یہ الفاظ دلیل ہیں کہ نماز میں ہر طرح کا کلام حرام ہے۔
اور علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ حرمت کلام کا علم رکھنے کے باوجود عمداً بلا ضرورت کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
مصلحت کے لیے کلام کرنے کے متعلق شافعی، مالک، ابو حنیفہ اور احمد کا مذہب ہے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ [شرح النووي: 5/26]
◈ ➊ مصلحت و غیر مصلحت کے لیے نماز میں کلام حرام ہے اور نماز میں بول کر سلام کا جواب دینا بھی حرام ہے۔
اشارے سے سلام کا جواب دینا نقصان دہ نہیں، بلکہ یہ مستحب فعل ہے۔ [شرح النووي: 5/26]
◈ ➋ ❀ «أُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنَهَيْنَا عَنِ الْكَلَامِ» .
یہ الفاظ دلیل ہیں کہ نماز میں ہر طرح کا کلام حرام ہے۔
اور علماء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ حرمت کلام کا علم رکھنے کے باوجود عمداً بلا ضرورت کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
مصلحت کے لیے کلام کرنے کے متعلق شافعی، مالک، ابو حنیفہ اور احمد کا مذہب ہے کہ اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔ [شرح النووي: 5/26]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 858]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 858 in Urdu
علقمة بن قيس النخعي ← عبد الله بن مسعود