🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
66. ‏(‏66‏)‏ باب ذكر استنجاء النبى صلى الله عليه وسلم بالماء
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پانی سے استنجا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 87
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْخَلاءَ فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَغَيْرِهِ، فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اُٹھا کر لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی سے استنجا کرتے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الاستنجاء بالماء‏.‏/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 150، 151، 152، 217، 500، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 270، وابن الجارود فى "المنتقى"، 44، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 84، 85، 86، 87، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1442، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 45، وأبو داود فى (سننه) برقم: 43، والدارمي فى (مسنده) برقم: 702، 703، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 515، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12283»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عطاء بن أبي ميمونة البصري، أبو معاذ
Newعطاء بن أبي ميمونة البصري ← أنس بن مالك الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عطاء بن أبي ميمونة البصري
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن الوليد البسري، أبو عبد الله
Newمحمد بن الوليد البسري ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 87 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ : 87
فوائد:
➊ قضائے حاجت کے لیے اتنا دور جانا کہ انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے۔ مستحب عمل ہے۔
➋ فاضل شخص کا ذاتی ضرورت کے لیے اپنے رفقاء سے خدمت لینا جائز ہے اور صالحین اور اہل فضل کی بطور تبرک خدمت کرنا جائز ہے۔
➌ پانی سے استنجا کرنا جائز و مستحب ہے اور پتھروں پر اکتفا کرنے کے بجائے پانی سے استنجا افضل ہے۔ پھر اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے لیکن جمہور سلف و خلف کا موقف اور جمیع مفتیان کا اجماع ہے کہ استجا میں پانی اور پتھر (دونوں چیزوں کا استعمال) افضل ہے چنانچہ تخفیف نجاست کے لیے اولاََ پتھر استعمال کیے جائیں پھر پانی بہایا جائے، پھر استنجا کرنے والا اگر دونوں (پانی اور پتھر) میں سے کسی ایک چیز پر اکتفا کرنا چاہے تو حسب منشا کسی ایک چیز پر اکتفا کر سکتا ہے، خواہ دوسری چیز موجود ہو یا نہ۔ چنانچہ پانی کی موجودگی میں پتھر پر کفایت کرنا جائز ہے اور اس کا عکس بھی درست ہے۔ لیکن اگر (پانی اور پتھروں میں سے) کسی ایک چیز پر اکتفا کرنا ہو تو پانی افضل ہے؟ کیونکہ پانی موضع نجاست کی حقیقی صفائی کرتا ہے جب کہ پتھر سے کلی طہارت حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ان سے نجاست کی تخفیف ہوتی ہے اور اتنی نجاست میں نماز پڑھنا مباح ہے۔
[نووي: 162/3]
➍ نیز مسند بزار کی وہ روایت جس میں اہل قبا کا یہ عمل منقول ہے کہ ہم ڈھیلوں کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں، ضعیف ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 87]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 87 in Urdu