صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
562. (329) باب الدليل على أن إباحة بزق المصلي تحت قدمه اليسرى
اس بات کی دلیل کابیان کہ نمازی اپنے بائیں پاوُں کے نیچے تھوک سکتا ہے
حدیث نمبر: Q877
إِذَا لَمْ يَكُنْ عَنْ يَسَارِهِ فَارِغًا، وَإِبَاحَةِ دَلْكِ الْبُزَاقِ بِقَدَمِهِ إِذَا بَزَقَ فِي صَلَاتِهِ
جبکہ اس کی بائیں جانب خالی نہ ہو، اور جب نماز میں تھوکے تو اسے پاوُں کے ساتھ ملنا بھی جائز ہے [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: Q877]
حدیث نمبر: 877
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلاةِ فَلا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَلا عَنْ يَمِينِكَ، وَلَكِنِ ابْزُقْ عَنْ تِلْقَاءِ شِمَالِكَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَارِغًا فَتَحْتَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى، ثُمَّ قُلْ بِهِ" . قَالَ مَنْصُورٌ: يَعْنِي ادْلُكْهُ بِالأَرْضِ
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز میں ہو تو اپنی دائیں طرف مت تھوکو لیکن اپنے پیچھے یا بائیں جانب یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لو۔“ یہ بندار کی حدیث ہے۔ ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ مجھے منصور نے بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے پیچھے تھوک لو، یا اپنی بائیں جانب تھوک لو اگر وہ خالی ہو (کوئی دوسرا نمازی نہ ہو) وگرنہ اس طرح اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لو۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 877]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 876، 877، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 947، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 725، وأبو داود فى (سننه) برقم: 478، والترمذي فى (جامعه) برقم: 571، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1021، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3655، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27864»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 877 in Urdu
ربعي بن حراش العبسي ← طارق بن عبد الله المحاربي