صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
564. (331) باب الرخصة فى بزق المصلي فى نعله ليخرجه من المسجد
نمازی کو اپنے جوتے میں تھوکنے کی رخصت ہے تاکہ وہ اسے مسجد سے باہر لے جائے
حدیث نمبر: 881
نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ذَكَرَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلاتِهِ فَلا يَبْصُقْ أَمَامَهُ ؛ فَإِنَّ رَبَّهُ أَمَامَهُ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَبْصَقًا فَفِي ثَوْبِهِ، أَوْ نَعْلِهِ، حَتَّى يَخْرُجَ بِهِ"
سیدنا ابوسیعد خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ اُس کا پروردگار اُس کے سامنے ہوتا ہے، اور اُسے چاہیے کہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدم کے نیچے تھوک لے، اگر اُسے تھوکنے کے لئے جگہ نہ ملے تو اپنے کپڑے یا اپنے جوتے میں تھوک لے (اور نماز کے بعد) اُسے باہر لے جائے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى الصلاة/حدیث: 881]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 408، 410، 414، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 548، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 874، 875، 880، 881، 926، 1660، 1741، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2268، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 949، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 724، وأبو داود فى (سننه) برقم: 480، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 761، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3658، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11182»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 881 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 881
فوائد:
➊ دورانِ نماز سامنے اور دائیں جانب تھوکنا ممنوع ہے اور اگر بائیں جانب نمازی نہ ہو تو بائیں جانب تھوکنا جائز ہے۔
➋ لیکن بائیں طرف نمازی ہو تو بائیں پاؤں کے نیچے یا بائیں طرف کپڑے میں تھوکنا جائز ہے۔
➌ پھر کپڑے اور جوتے کو ملنا تھوک کو زائل کر دیتا ہے۔
➊ دورانِ نماز سامنے اور دائیں جانب تھوکنا ممنوع ہے اور اگر بائیں جانب نمازی نہ ہو تو بائیں جانب تھوکنا جائز ہے۔
➋ لیکن بائیں طرف نمازی ہو تو بائیں پاؤں کے نیچے یا بائیں طرف کپڑے میں تھوکنا جائز ہے۔
➌ پھر کپڑے اور جوتے کو ملنا تھوک کو زائل کر دیتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 881]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 881 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو سعيد الخدري