صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
584. (351) باب الزجر عن غرز الضفائر فى القفا فى الصلاة، إذ هو مقعد للشيطان
نماز میں بالوں کی چوٹیوں کو گردن میں باندھنے کی ممانعت کا بیان، کیونکہ وہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے
حدیث نمبر: 911
نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ أَصْلِهِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ يُصَلِّي، قَدْ غَرَزَ ضِفْرَيْهِ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهُمَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حُسْنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : أَقْبِلْ عَلَى صَلاتِكَ، وَلا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ" يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرَزَ ضِفْرَيْهِ
حضرت ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ اس حال میں کہ نماز پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے اپنے بالوں کی چوٹیاں اپنی گدی میں باندھی ہوئی تھیں۔ چنانچہ سیدنا ابورافع نے رضی اللہ عنہ انہیں کھول دیا، تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ غصّے کے ساتھ اُن کی طرف متوجہ ہوئے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی نماز کی طرف توجہ کریں اور غصّہ نہ کریں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”یہ شیطان کا حصّہ ہے۔“ فرمایا کہ یہ چوٹیوں کے باندھنے کی جگہ شیطان کا ٹھکانہ ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
كيسان المقبري ← أبو رافع القبطي