الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
587. (354) باب ذكر الخبر المفسر للفظة المجملة التى ذكرتها
گذشتہ مجمل روایت کی مفسر روایت کا بیان،
حدیث نمبر: 916
نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقُ الْفِرْيَابِيِّ بِالرَّمْلَةِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ:" وَاحِدَةٌ أَوْ دَعْ"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں کنکریوں کے چھونے (انہیں درست کرنے) کے بارے میں بھی پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بار درست کرلو یا رہنے دو (جیسے ہوں ویسے ہی رہنے دو ـ)“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← أبو ذر الغفاري