صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
606. (373) بَابُ نَفْيِ قَبُولِ صَلَاةِ شَارِبِ الْخَمْرِ
شرابی کی نماز قبول نہیں ہوتی
حدیث نمبر: 939
نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، أَنَّهُ مَكَثَ فِي طَلَبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلَ عَنْهُ، قَالُوا: قَدْ سَارَ إِلَى مَكَّةَ، فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ سَارَ إِلَى الطَّائِفِ فَأَتْبَعَهُ فَوَجَدَهُ فِي زُرْعَةٍ يَمْشِي مُخَاصِرًا رَجُلا مِنْ قُرَيْشٍ، وَالْقُرَيْشِيُّ يُزِنُّ بِالْخَمْرِ، فَلَمَّا لَقِيتُهُ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ. قَالَ: مَا عَدَا بِكَ الْيَوْمَ، وَمِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ، فَأَخْبَرْتُهُ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، هَلْ سَمِعْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ شَرَابَ الْخَمْرِ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَانْتَزَعَ الْقُرَشِيُّ يَدَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يَشْرَبُ الْخَمْرَ رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي فَيُقْبَلُ لَهُ صَلاةٌ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا"
جناب عروہ بن رویم، ابن دیلمی سے روایت کرتے ہیں جو کہ بیت المقدس میں رہتے تھے، کہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی تلاش (اور ان سے ملاقات) کے لئے مدینہ منورہ میں ٹھہرے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ وہ مکّہ مکرّمہ روانہ ہو گئے ہیں، وہ اُن کے پیچھے گئے تو معلوم ہوا کہ وہ طائف چلے گئے ہیں، تو وہ اُن کے پیچھے (طائف) گئے تو اُنہیں ایک کھیت میں ایک قریش شخص کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے چلتے ہوئے دیکھا۔ جبکہ قریشی کے بارے میں شرابی ہونے کا گمان کیا جاتا تھا۔ پھر جب میں اُن سے ملا تو میں نے اُنہیں سلام کیا، اور اُنہوں نے بھی مجھے سلام کیا اور انہوں نے پوچھا کہ آج تمہیں کس چیز نے دوڑایا ہے اور کہاں سے آرہے ہو؟ تو میں نے اُنہیں بتایا (کہ مدینہ سے آپ کی ملاقات کے لئے آ رہا ہوں) پھر میں نے اُن سے پوچھا کہ اے عبداﷲ بن عمرو، کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب پینے کے متعلق کوئی فرمان سنا ہے؟ تو اُنہوں نے کہا کہ ہاں۔ تو قریشی اپنا ہاتھ چھڑا کر چلا گیا۔ اُنہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” میری اُمّت کا جو شخص بھی شراب پیئے گا تو چالیس دن تک اُس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المكروهة فى الصلاة التى قد نهي عنها المصلي/حدیث: 939]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 939، 1334، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1633، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 84، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 692، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2642، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1408، 3377، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 814، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1861، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6754»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 939 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 939
فوائد:
➊ شراب نوشی انتہائی قبیح جرم و حرام ہے۔
➋ شراب کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے اور شرابی کی تذلیل کی خاطر اسے جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
➌ قرآن و سنت میں شراب نوشی کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے، نیز ایک مرتبہ شراب پینے سے چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہوتی۔
➍ جو لوگ ڈھٹائی سے اس قبیح گناہ میں ملوث اور دن رات جام انڈیلتے ہیں، ان میں سے اکثر دین سے بے بہرہ ہیں، بالفرض اگر نماز پڑھیں بھی تو قبولیت کے دروازے بند ہیں۔
➎ لہٰذا ان جیسی احادیث کے بیان کے بعد مزید ہٹ دھرم اور ڈھیٹ ہونے کے بجائے اس قبیح عادت سے جان چھڑانی چاہیے، ارکان اسلام پر مضبوطی سے کاربند ہونا چاہیے اور صحت نماز کے خلاف تمام برے اعمال سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔
➏ اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
➊ شراب نوشی انتہائی قبیح جرم و حرام ہے۔
➋ شراب کو بطور دوا استعمال کرنا بھی حرام ہے اور شرابی کی تذلیل کی خاطر اسے جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی۔
➌ قرآن و سنت میں شراب نوشی کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے، نیز ایک مرتبہ شراب پینے سے چالیس روز کی نماز قبول نہیں ہوتی۔
➍ جو لوگ ڈھٹائی سے اس قبیح گناہ میں ملوث اور دن رات جام انڈیلتے ہیں، ان میں سے اکثر دین سے بے بہرہ ہیں، بالفرض اگر نماز پڑھیں بھی تو قبولیت کے دروازے بند ہیں۔
➎ لہٰذا ان جیسی احادیث کے بیان کے بعد مزید ہٹ دھرم اور ڈھیٹ ہونے کے بجائے اس قبیح عادت سے جان چھڑانی چاہیے، ارکان اسلام پر مضبوطی سے کاربند ہونا چاہیے اور صحت نماز کے خلاف تمام برے اعمال سے نجات حاصل کرنی چاہیے۔
➏ اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور کامیابی کا راز پنہاں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 939]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 939 in Urdu
عبد الله بن فيروز الديلمي ← عبد الله بن عمرو السهمي