🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
616. (383) باب ذكر خبر احتج به بعض من خالف الحجازيين فى إزماع المسافر مقام أربع أن له قصر الصلاة
مسافر چار دن ک اقامت کا پختہ ارادہ کر لے تو وہ قصر کر سکتا ہے اس مسئلہ میں اہلِ حجاز علماء کے مخالفین کی دلیل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 963
قَالَ: كَذَلِكَ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، نَا أَفْلَحُ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، فَذَكَرَتْ بَعْضَ صِفَةِ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: " فَأَذِنَ بِالرَّحِيلِ فِي أَصْحَابَهُ، فَارْتَحَلَ النَّاسُ، فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَطَافَ بِهِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَرَكِبَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَمْ نَسْمَعْ أَحَدًا مِنَ الْعُلَمَاءِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ يَجْعَلُ مَا وَرَاءَ الْبِنَاءِ الْمُتَّصِلُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ فِي الْمُدُنِ مِنَ الْمُدُنِ، وَإِنْ كَانَ مَا وَرَاءَ الْبِنَاءِ مِنْ حَدِّ تِلْكَ الْمَدِينَةِ، وَمِنْ أَرَاضِيهَا الْمَنْسُوبَةِ إِلَى تِلْكَ الْمَدِينَةِ، لا نَعْلَمُهُمُ اخْتَلَفُوا أَنَّ مَنْ خَرَجَ مِنْ مَدِينَةٍ يُرِيدُ سَفَرًا، فَخَرَجَ مِنَ الْبُنْيَانِ الْمُتَّصِلُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ أَنَّ لَهُ قَصْرَ الصَّلاةِ، وَإِنْ كَانَتِ الأَرْضُونَ الَّتِي وَرَاءَ الْبِنَاءِ مِنْ حَدِّ تِلْكَ الْمَدِينَةِ وَكَذَلِكَ لا أَعْلَمُهُمُ اخْتَلَفُوا أَنَّهُ إِذَا رَجَعَ يُرِيدُ بَلْدَةً فَدَخَلَ بَعْضَ أَرَاضِي بَلْدَةٍ، وَلَمْ يَدْخُلِ الْبِنَاءَ، وَكَانَ خَارِجًا مِنْ حَدِّ الْبِنَاءِ الْمُتَّصِلِ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ أَنَّ لَهُ قَصْرَ الصَّلاةِ مَا لَمْ يَدْخُلْ مَوْضِعَ الْبِنَاءِ الْمُتَّصِلِ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ وَلا أَعْلَمَهُمُ اخْتَلَفُوا أَنَّ مَنَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مِنْ أَهْلِهَا، أَوْ مَنْ قَدْ أَقَامَ بِهَا قَاصِدًا سَفَرًا يَقْصُرُ فِيهِ الصَّلاةَ، فَفَارَقَ مَنَازِلَ مَكَّةَ، وَجَعَلَ جَمِيعَ بِنَائِهَا وَرَاءَ ظَهْرِهِ وَإِنْ كَانَ بَعْدُ فِي الْحَرَمِ أَنَّ لَهَ قَصْرَ الصَّلاةِ، فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ فِي حَجَّتِهِ، فَخَرَجَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ قَدْ فَارَقَ جَمِيعَ بِنَاءِ مَكَّةَ، وَسَارَ إِلَى مِنًى، وَلَيْسَ مِنًى مِنَ الْمَدِينَةِ الَّتِي هِيَ مَدِينَةُ مَكَّةَ، فَغَيْرُ جَائِزٍ مِنْ جِهَةِ الْفِقْهِ إِذَا خَرَجَ الْمَرْءُ مِنْ مَدِينَةٍ لَوْ أَرَادَ سَفَرًا بِخُرُوجِهِ مِنْهَا جَازَ لَهُ قَصْرُ الصَّلاةِ أَنْ يُقَالَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بِنَائِهَا هُوَ فِي الْبَلْدَةِ، إِذْ لَوْ كَانَ فِي الْبَلْدَةِ لَمْ يَجُزْ لَهُ قَصْرُ الصَّلاةِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهَا، فَالصَّحِيحُ عَلَى مَعْنَى الْفِقْهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُقِمْ بِمَكَّةَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ إِلا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ كَوَامِلَ، يَوْمَ الْخَامِسِ وَالسَّادِسِ وَالسَّابِعِ، وَبَعْضَ يَوْمِ الرَّابِعِ، دُونَ لَيْلِهِ، وَلَيْلَةِ الثَّامِنِ وَبَعْضِ يَوْمِ الثَّامِنِ، فَلَمْ يَكُنْ هُنَاكَ إِزْمَاعٌ عَلَى مُقَامِ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ بِلَيَالِيهَا فِي بَلْدَةٍ وَاحِدَةٍ، فَلَيْسَ هَذَا الْخَبَرُ إِذَا تَدَبَّرْتَهُ بِخِلافِ قَوْلِ الْحِجَازِيِّينَ فِيمَنْ أَزْمَعَ مُقَامَ أَرْبَعٍ، أَنَّهُ يُتِمُّ الصَّلاةَ ؛ لأَنَّ مُخَالِفِيهِمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مَنْ أَزْمَعَ مُقَامَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ فِي مَدِينَةٍ، وَأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ خَارِجًا مِنْ تِلْكَ الْمَدِينَةِ فِي بَعْضِ أَرَاضِيهَا الَّتِي هِيَ خَارِجَةٌ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى قَدْرِ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَمِنًى فِي مَرَّتَيْنِ لا فِي مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً فِي مَوْضِعٍ ثَالِثٍ مَا بَيْنَ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ كَانَ لَهُ قَصْرُ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَكُنْ هَذَا عِنْدَهُمْ إِزْمَاعًا عَلَى مُقَامِ خَمْسَ عَشْرَةَ عَلَى مَا زَعَمُوا أَنَّ مَنْ أَزْمَعَ مُقَامَ خَمْسَ عَشْرَةَ وَجَبَ عَلَيْهِ إِتْمَامُ الصَّلاةِ
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کی کچھ کیفیت بیان کی اور فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو روانگی کا حُکم دیا تو لوگ روانہ ہونے شروع ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (روانگی کے وقت) صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو اس کا طواف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (بیت اللہ سے) باہر تشریف لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوکر مدینہ منوّرہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ ہم نے کسی فقیہ عالم دین کے بارے میں نہیں سنا کہ اس نے کسی شہر کی ہاہم متصل آبادی اور عمارات کے بعد والے علاقے کو اسی شہر کا حصّہ قرار دیا ہو، اگرچہ آبادی کے بعد والا علاقہ اسی شہر کی حدود سے اور اس شہر کی طرف منسوب زمینوں میں سے ہو۔ ہمارے علم میں نہیں کہ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف ہو کہ جو شخص سفر کے ارادے سے شہر سے نکل جائے، اور وہ باہم متصل آبادی اور عمارات سے باہر چلا جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اگرچہ آبادی کے بعد والی زمینیں اسی شہر کی حدود میں ہوں۔ اسی طرح ہمارے علم میں علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب وہ شخص واپس کسی شہر میں آنا چاہے اور وہ اس شہر کی بعض زمینوں میں داخل ہو جائے اور آبادی میں داخل نہ ہوا اور وہ ابھی باہم متصل آبادی کی حدود سے باہر ہو تو وہ قصر کر سکتا ہے جب تک کہ آپس میں ملی ہوئی آبادی میں داخل نہ ہو جائے اور مجھے اس بارے میں علمائے کرام کا اختلاف معلوم نہیں ہے کہ جو شخص مکّہ مکرّمہ سے سفر کی نیت سے نکل گیا، وہ مکّہ کا رہائشی ہو یا جو وہاں عارضی مقیم تھا وہ مکّہ (کی حدود میں) نماز قصر کر سکتا ہے - جب اس نے مکّہ مکرّمہ کی منازل کو چھوڑ دیا، اور ساری آبادی اپنے پیچھے چھوڑ دی، اگرچہ وہ حدود حرم میں دور نکل جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے حج کے لئے مکّہ مکرّمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوم الترویہ کو مکّہ مکرّمہ سے نکل گئے ـ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّہ مکرّمہ کی تمام آبادی کو چھوڑ دیا اور منیٰ روانہ ہو گئے، جبکہ منیٰ مکّہ مکرّمہ شہر میں داخل نہیں ہے - لہٰذا فقہی نقطہ نظر سے یہ درست نہیں ہے کہ جو شخص سفر کی نیت و ارادے سے شہر سے نکل گیا اور اس کے لئے نماز قصر کرنا جائز تھا، اسے کہا جائے کہ جب وہ شہر کی آبادی سے نکل گیا کہ وہ ابھی شہر ہی میں ہے۔ کیونکہ اگر وہ ابھی تک شہر ہی میں ہے تو اس کے لئے نماز قصر کرنا درست نہیں ہے حتیٰ کہ وہ شہر سے نکل جائے ـ لہٰذا فقہی رو سے یہی بات صحیح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقع پر مکّہ مکرّمہ میں صرف تین دن رات مکمّل قیام پذیر رہے، پانچ، چھ اور سات تاریخ کو۔ چار تاریخ کا کچھ حصّہ سوائے اس کی رات کے اور آٹھویں تاریخ کی رات اور اس کے دن کا کچھ حصّہ، لہٰذا وہاں کسی ایک شہر میں چار دن رات کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں تھا۔ اس لئے یہ روایت، جب تم غور و فکر کرو، تو اہل حجاز کے اس قول کے مخالف نہیں ہے کہ جو شخص کسی ایک مقام پر چاردن رہنے کا پختہ ارادہ کر لے وہ نماز مکمّل پڑھے۔ کیونکہ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ جس شخص نے کسی شہر میں دس دن کے قیام کا پختہ ارادہ کر لیا، اور چار دن اس شہر سے باہر اس شہر کی ایسی زمینوں میں رہنے کا ارادہ کیا جو شہر سے مکّہ مکرّمہ اور منیٰ جیسی دوہری مسافت کے برابر ہو، اکہری نہ ہو۔ اور ایک رات اور دن کسی تیسری جگہ پر گزارے جو منیٰ سے عرفات جتنی مسافت پر ہو تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اور یہ ان کے نزدیک ایک مقام پر پندرہ دن کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک جس شخص نے پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کر لیا اس پر مکمّل نماز ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 294، 305، 316، 317، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1211، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1204، وابن الجارود فى "المنتقى"، 463، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 963، 2604، 2605، 2607، 2784، 2788، 2789، 2790، 2904، 2905، 2936، 2948، 2954، 2998، 3002، 3028، 3029، 3076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3792، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1788، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 242، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1778، والترمذي فى (جامعه) برقم: 943، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2963، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 877، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2626، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6357»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن
Newالقاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة أفضل أهل زمانه
👤←👥أفلح بن صفيراء الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو صفير
Newأفلح بن صفيراء الأنصاري ← القاسم بن محمد التيمي
ثقة
👤←👥عبد الكبير بن عبد المجيد البصري، أبو بكر
Newعبد الكبير بن عبد المجيد البصري ← أفلح بن صفيراء الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الكبير بن عبد المجيد البصري
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 963 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 963
فوائد:
➊ مصنف نے ان احادیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ غیر مقیم مسافر زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک رہنے کا قصد کر سکتا ہے اور کسی جگہ تین دن اور تین رات کی اقامت سے ٹھہرنے والا اتنے دن قصر کرے گا۔
اس سے زیادہ دن اقامت کا ارادہ ہو تو وہ پوری نماز پڑھے گا۔
مالک اور شافعی کا بھی یہی موقف ہے کہ چار دن اقامت کی نیت کرنے والا مسافر پوری نماز پڑھے گا۔
اس سے کم مدت اقامت کا ارادہ رکھنے والا قصر کرے گا۔
اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ پندرہ دن اقامت کی نیت رکھنے والا مسافر پوری نماز پڑھے اور اس سے کم مدت کی اقامت کا ارادہ رکھنے والا قصر نماز ادا کرے۔ [فقه السنة: 272/1]
➋ مسافر جب تک مسافر ہو قصر کرے گا۔
اور جب وہ کسی کام کی غرض سے کہیں اقامت کرے تب بھی قصر کرے گا کیونکہ وہ مسافر ہی متصور ہوگا۔
خواہ وہ کئی سال اقامت کرے۔
لیکن مسافر اگر معینہ مدت کی اقامت کی نیت کرے تو قصر نماز ادا کرے یا پوری نماز پڑھے گا؟
◈ اس بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اقامت طویل ہو یا مختصر بشرطیکہ وہ اقامت گاہ کو سکونت کا درجہ نہ دے تو وہ نماز قصر ہی کرے گا اور جب کسی جگہ کو مسافر رہائش و سکونت ٹھہرائے تو وہ مقیم بن جائے گا۔
اس صورت میں پوری نماز پڑھنا واجب ہے۔ [فقه السنة: 270/1]
➌ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسافر تردد و عدم تردد کی حالت میں نماز قصر ہی ادا کرے گا کیونکہ تردد و عدم تردد میں امتیاز کی کوئی واضح نص موجود نہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں ہمیشہ قصر نماز کا اہتمام کیا۔
نیز کوئی آیت، حدیث، اثر اور اجماع اس بات کی دلیل نہیں کہ معین مدت کی اقامت کا ارادہ ہو تو مسافر پوری نماز پڑھے اور حالتِ تردد میں ہو تو قصر کرے۔
لہذا راجح موقف یہی ہے کہ مسافر جب تک مسافر ہے اور اس کی سفری ضروریات پوری نہ ہوں وہ قصر کر سکتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 963]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 963 in Urdu