🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
618. (385) باب الرخصة فى الجمع بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء وإن لم يجد بالمسافر السير
ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کی جمع کرکے ادا کرنے کی رخصت کا بیان، اگرچہ مسافر کو سفر کی جلدی نہ ہو
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت مروی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 967]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 543، 562، 1174، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 705، ومالك فى (الموطأ) برقم: 480، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 967، 971، 972، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1596، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 588، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1210، 1211، 1214، والترمذي فى (جامعه) برقم: 187، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1069، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5614، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1450، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1899»


صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 967 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 967
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ حالت سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو مقدم و مؤخر کر کے ایک نماز کے وقت میں دونوں نمازیں جمع کرنا جائز ہے۔ خواہ سفر میں جلدی مقصود ہو یا نہ ہو۔
➋ اکثر اہل علم مثلاً سعید بن زید، سعد، اسامہ، معاذ بن جبل، ابو موسیٰ، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم اس جواز کے قائل ہیں اور طاؤس، مجاہد، عکرمہ، مالک، ثوری، اسحاق، ابو ثور اور ابن منذر سے بھی یہی قول منقول ہے۔ لیکن حسن بصری، ابن سیرین اور اصحاب الرائے کا موقف ہے کہ نمازوں کو جمع کرنا عرفہ کے دن عرفہ میں اور مزدلفہ میں مزدلفہ کی رات ہی جائز ہے۔ اس بارے میں جمہور علماء کا قول راجح ہے کیونکہ احادیثِ باب ان کے موقف کی قوی دلیل ہیں۔ [المغنی لابن قدامه: 55/4]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 967]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 967 in Urdu