صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
624. (391) بَابُ اسْتِحْبَابِ الصَّلَاةِ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ قَبْلَ الِارْتِحَالِ مِنَ الْمَنْزِلِ
منزل سے روانگی سے قبل نماز اوّل وقت میں پڑھنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 975
نَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا نَزَلَ مَنْزِلا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ"، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی منزل پر پڑاو ڈالتے تو وہاں سے ظہر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوتے۔ (حمزہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی، اگرچہ نصف النہار (دوپہر) کا وقت ہوتا؟ اُنہوں نے (یعنی سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے) فرمایا کہ (ہاں) اگرچہ دوپہر کا وقت بھی ہوتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الفريضة فى السفر/حدیث: 975]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1110، 1111، 1112، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 704، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 969، 975، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1456، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 497، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1204، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5605، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1454، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12294»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حمزة بن عمرو العائذي، أبو عمر حمزة بن عمرو العائذي ← أنس بن مالك الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← حمزة بن عمرو العائذي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 975 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 975
فوائد:
یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ سفر میں کسی منزل پر قیام کیا ہو تو نمازِ ظہر کو اول وقت پر جلد ادا کرنا مستحب ہے۔
خواہ وہ نصف النہار کا وقت ہو، اس سے مقصود زوالِ آفتاب کے بعد کا وقت ہے کہ زوالِ آفتاب کے بعد فوراً نمازِ ظہر ادا کر لی جائے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ دورانِ سفر میں کسی منزل پر قیام کیا ہو تو نمازِ ظہر کو اول وقت پر جلد ادا کرنا مستحب ہے۔
خواہ وہ نصف النہار کا وقت ہو، اس سے مقصود زوالِ آفتاب کے بعد کا وقت ہے کہ زوالِ آفتاب کے بعد فوراً نمازِ ظہر ادا کر لی جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 975]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 975 in Urdu
حمزة بن عمرو العائذي ← أنس بن مالك الأنصاري