اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
880. باب حجاج آدم وموسى عليهما السلام
باب: حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مباحثہ
حدیث نمبر: 1700
1700 صحيح حديث أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسى فَقَالَ لَهُ مُوسى: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا، خَيَّبْتَنَا، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ آدَمُ: يَا مُوسى اصْطَفَاكَ اللهُ بِكَلاَمِهِ، وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَ اللهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً فَحَجَّ آدَمُ مُوسى ثَلاَثًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آدم اور موسیٰ علیہما السلام نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: موسیٰ! آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا؟ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔“ تین مرتبہ آنسیدنا صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب القدر/حدیث: 1700]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 82 كتاب القدر: 11 باب تحاج آدم وموسى عند الله»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1700 in Urdu