🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
916. باب صفات المنافقين وأحكامهم
باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1765
1765 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيهِ شِدَّةٌ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ لأَصْحَابِهِ: لاَ تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَنْفَضُّوا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، لَيُخْرِجَنَّ الأَعَزُّ مِنْهَا الأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِينَهُ مَا فَعَلَ قَالُوا: كَذَبَ زَيْدٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِمَّا قَالُوا شِدَّةٌ حَتَّى أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقِي فِي (إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ) فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَقَوْلُهُ (خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ) قَالَ: كَانُوا رِجَالاً، أَجْمَلَ شَيْءٍ
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوۂ تبوک یا بنی المصطلق) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبد اللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں، اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا کر کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ لوگوں نے کہا کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔ لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے میں بڑا رنجیدہ ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ منافقون نازل فرما کر میری تصدیق فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ﴾ [سورة المنافقون: 1] الخ (۶) یعنی جب آپ کے پاس منافق آئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا تاکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿خُشُبٌ مُسَنَّدَةٌ﴾ [سورة المنافقون: 4] گویا وہ بہت بڑے لکڑی کے کھمبے ہیں (ان کے متعلق اس لیے کہا گیا کہ) وہ بظاہر بڑے خوبصورت اور معقول مگر دل میں منافق تھے۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 65 كتاب التفسير: 63 سورة إذا جاءك المنافقون: 3 باب قوله ذلك بأنهم آمنوا ثم كفروا»

Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1765 in Urdu