اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
916. باب صفات المنافقين وأحكامهم
باب: منافقوں کے اوصاف اور ان کے متعلق احکامات
حدیث نمبر: 1769
1769 صحيح حديث زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رضي الله عنه، قَالَ: لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ، رَجَعَ ناسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَتْ فِرْقَةٌ: نَقْتُلُهُمْ وَقَالَتْ فِرْقَةٌ: لاَ نَقْتُلُهُمْ فَنَزَلَتْ (فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ)
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد کے لیے نکلے تو جو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کچھ لوگ واپس آ گئے (یہ منافقین تھے)، پھر بعض نے تو یہ کہا کہ ہم چل کر انہیں قتل کر دیں گے اور ایک جماعت نے کہا کہ قتل نہ کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا﴾ [سورة النساء: 88] ”تمہیں کیا ہو گیا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو۔ انہیں تو ان کے اعمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اوندھا کر دیا ہے۔ اب کیا تم یہ منصوبے باندھ رہے ہو کہ اللہ کے گمراہ کیے ہوؤں کو تم راہ راست پر لا کھڑا کرو۔ جسے اللہ راہ بھلا دے تو ہرگز اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا۔“ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صفات المنافقين وأحكامهم/حدیث: 1769]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 29 كتاب فضائل المدينة: 10 باب المدينة تنفي الخبث»
Al-Lulu wal-Marjan Hadith 1769 in Urdu