🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

اللؤلؤ والمرجان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

اللؤلؤ والمرجان میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1906)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
255. باب الرخصة فى اللعب الذى لا معصية فيه فى أيام العيد
باب: عید کے دن میں مباح کھیل کھیلنا جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
513 صحيح حديث عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، وَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَانْتَهَرَني، وَقَالَ: مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دَعْهُمَا فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَاوَكَانَ يَوْمَ عيدٍ يَلْعَبُ فِيهِ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ فَقُلْتُ: نَعَمْ فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ، خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ قَالَ: حَسْبُكِ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَاذْهَبِي
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے، اس وقت میرے پاس (انصار کی) دو لڑکیاں جنگ بعاث کے قصوں کی نظمیں پڑھ رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا، اس کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ یہ شیطانی باجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جانے دو خاموش رہو۔ پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں لگ گئے تو میں نے انہیں اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں، اور یہ عید کا دن تھا، حبشہ کے کچھ لوگ ڈھالوں اور برچھیوں سے کھیل رہے تھے، اب یا خود میں نے کہا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کھیل دیکھو گی؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: کھیلو کھیلو اے بنی ارفدہ (یہ حبشہ کے لوگوں کا لقب تھا)، پھر جب میں تھک گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ [اللؤلؤ والمرجان/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «صحیح، أخرجه البخاري في: 13 كتاب العيدين: 2 باب الحراب والدرق يوم العيد»


Al-Lulu wal-Marjan Hadith 513 in Urdu